اتوار، 24 مارچ، 2013

قرآن پاک میں نفس پرستی کا ذکر – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

اور ایسے لوگوں کی پیروی مت کرو جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ باپ کے ساتھ احسان کرو۔ اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو‘ ہم ان کو اور تم کو بھی رزق دیں گے۔ بے حیائی کے جتنے بھی طریقے ہیں‘ ان کے پاس تک نہ جاؤ خواہ وہ علانیہ ہوں خواہ پوشیدہ ہوں۔ جو عہد کرو اس کو پورا کرو۔

بلکہ ان ظالموں نے بلا تحقیق دلیل اور علم کے اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ سو جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کون راہ پر لاوے؟ اور ان کا کوئی حمائتی نہ ہوگا۔ (سورۃ الروم، آیت ۲۹)

جمعرات، 14 مارچ، 2013

نفس اور روح کی تفسیر – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

اللہ تعالیٰ نے ہر انسانی جسم میں اپنے مقام کے ساتھ ساتھ نفس اور روح کو بھی داخل فرمایا۔ نفس کو موت ہے۔كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ﴿سورة آل عمرآن، آية 185، سورة الانبياء، آية 35. سورة العنکبوت، آية 57﴾۔ روح نور ہے جس کو موت نہیں۔ روزِ محشر اسی کا حساب ہو گا اور یہی جنت یا نعوذ باللہ دوزخ میں داخل کی جائے گی۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے تمام خطاب روح کو کئے ہیں اور اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ﴿سورة الاعراف، آية ١٧٢﴾ پر روح نے ہی   بَلٰى ﴿سورة الاعراف، آية ١٧٢﴾ کہہ کر اقرار کیا تھا۔ اس لئے اس کا امتحان ہے۔

نفس کی غذا

عیش و عشرت‘ جاہ و حشمت‘ لوازمات‘ لذیذ کھانے‘ آرام و آسائش‘ خودستائی‘ دروغ گوئی‘ حرص و ہوا، تکبر‘ غرور‘ گھمنڈ‘ نخوت‘ لالچ وغیرہ۔

نفس سے جہاد کرتے رہو۔ حدیث شریف کے مطابق جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف لوٹنے کا مطلب مجاہدۂ نفس ہے‘ اس لئے کہ نفس ہمیشہ اور مستقل طور پر طالب ِ لذت و شہوت رہ کر غرقِ معصیت (گناہ) رہتا ہے۔

القرآن        وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ      ﴿سورة الحجر، آية ۹۹﴾

ترجمہ۔ رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں یقین آ جائے (نہایت درجہ حاصل ہو)۔

 

روح کی غذا

پیر، 11 مارچ، 2013

مدارات – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز مریدین کے خطوط کا جواب بذاتِ خود دیتے۔ ان خطوط میں مریدین کے سوالات کے جوابات کے علاوہ تصوف کے دقیق مسائل سے بھی مریدین کو آگاہ فرماتے۔ بسا اوقات ان کی باطنی اصلاح فرماتے۔ شیطانی وسوسوں سے آگاہ فرماتے۔ ان کی تشریح کر کے بچاؤ کے طریقے بتاتے یہ کہ ہر مرید کے لئے لازمی ہے کہ وہ خطراتِ شیطانی سے آگاہ ہو اور خطرات وارد ہونے کی صورت میں حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کر کے اپنا ایمان بچا سکے۔ اگر بچاؤ کا طریقہ معلوم نہ ہو گا تو عین ممکن ہے کہ مرید اپنا ایمان ضائع کر بیٹھے۔ خطرات کی تشریح اس طرح فرمائی کہ شیطانی خطرات شریعت کی کسوٹی پر پرکھنے سے معلوم ہو سکتے ہیں۔ یہ قانونِ شریعت کے خلاف ہوتے ہیں۔ لا حول ولا قوت الا بالله العلي العظيم پڑھنے سے شیطانی خطرات ٹل جائیں گے۔

جمعرات، 7 مارچ، 2013

الفقر فخري – فقر کی تشریح – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

اَلفَقرُ فَخرِي

فقر کی تشریح

حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز ولایت کے بلند درجات پر فائز تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو محبوبِ ذات کے درجہ سے نوازا جو خاص الخاص قربت ِ الٰہی کا درجہ ہے۔ حضرت محبوبِ ذات قدس سرہٗ العزیز نے فقر کی تشریح فرماتے ہوئے فقر کے تین درجے بتائے۔ فقرِ کامل، فقرِ مکمل، فقرِ اکمل۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔

ارشادِ نبوی:۔        الفقرُ فخري والفقرُ منّي

ترجمہ۔ مجھے فقر پر فخر ہے۔ فقر مجھ سے ہے۔

چونکہ ساری کائنات میں کسی نبی یا ولی کی پرواز فقر کی انتہائی منزل اور درجے تک نہ ہو سکتی تھی‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فقر کے تین درجوں کا تعین فرمایا۔

 

پہلا درجہ فقر کامل

فقرِ کامل کی یہ شان ہوتی ہے کہ خود فانی اور اللہ کے ساتھ باقی ہوتا ہے۔ اس کا دل غیر اللہ کی طرف مائل نہیں ہوتا اور یہ ہمہ وقت مشاہدۂ الٰہی میں محو رہتا ہے۔

جمعرات، 28 فروری، 2013

صدقات کے احکامات (من القرآن)

ارشادِ خداوندی ہے۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ    ﴿پارہ ۳، سورة البقرة٫ آية ۲۶۴﴾

ترجمہ۔ اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کیا کرو۔

اِنَّ الْمُصَّدِّقِيْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ وَاَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا يُّضٰعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ اَجْرٌ كَرِيْمٌ           ؀  ﴿پارہ ۲۷، سورة الحديد٫ آية ۱۸﴾

ترجمہ۔ بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا، ان کے دوگنے (ملنے) ہیں۔

رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ؀

﴿پارہ ۲۸، سورة المنافقون٫ آية ١٠﴾

ترجمہ۔ اے رب میرے! تو نے مجھے تھوڑی مدت تک اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا؟
صدقے سے مراد مالِ حلال میں خوش دلی سے راہِ خدا میں خرچ کرنا ہے۔ قرضِ حسنہ سے مراد راہِ خدا میں خرچ کرنا ہے۔

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ  ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ؀        ﴿پارہ ۱۰، سورة التوبة٫ آية ۶۰﴾

ترجمہ۔ صدقات تو دراصل یتیموں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جو صدقات وصول کرنے پر معمور ہوں اور ان کے لئے جن کی دلجوئی منظور ہو اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کی امداد میں استعمال کرنے کے لئے۔ پس یہ فرض ہے اللہ کی طرف سے۔ اللہ علیم و حکیم ہے۔

جمعہ، 22 فروری، 2013

مصائب و آلام – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

ارشادِ خداوندی ہے۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ  ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ
(سورة البقرہ، آيت ۱۵۳)

ترجمہ۔ اے ایمان والو نماز اور صبر سے مدد لو‘بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

 

تشریح:۔    نعمتوں پر شکر اور مصائب میں صبر اور نماز سے مدد لو۔ اگر کوئی شے بطورِ نعمت ہے تو شکر بجا لاؤ‘ اگر بطورِ مصیبت ہے تو صبر اختیار کرو۔ صبر و استقامت سے قضا و قدر کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دو۔ مصائب سے درجات کی بلندی ہوتی ہے۔ اپنے سے غائب ہونا، گم ہونا، وجود کو فراموش کر دینا، حق کی حضوری ہے۔ اپنی صفت کو ثابت و قائم کرنے کا نام بشریت ہے۔ ماسوائے اللہ کی ذات کے تمام چیزوں سے دل کو آزاد و فارغ رکھنے کا نام فقر ہے اور فقر مصیبتوں کا دریا ہے جس میں غوطہ زن ہونے کے بعد فقر ’’فخر‘‘ بن جاتا ہے۔

جمعرات، 21 فروری، 2013

تواضع – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

تواضع

تواضع رحمت ِ خداوندی کا ایسا دروازہ ہے جو تکبر اور غرور کو کاٹنے والا ہے۔ بغض اور تکبر کو ہر حال میں اپنے نفس سے باہر نکال پھینکو۔ توحید یہ ہے کہ مردِ مواحد (توحید پرست) جمالِ احدیت کو چشمِ دل سے بے نقاب دیکھے۔ مشاہدہ سے مراد ذاتِ الٰہی کا چشمِ دل سے دیکھنا ہے۔ محبوب کی ملاقات کے لئے دل کا شوق و اضطراب محبت ہے۔ جس طرح جسم کا قیام روح سے ہے‘ اسی طرح حب کا قیام محبوب کے دیدار اور وصل سے ہے۔ محبت کے معنی ہیں "دوستی میں صفائی اور اخلاص۔" بندہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی محبت اس کا رحم و کرم و بخشش ہے۔ بندے کی محبت ذات و صفاتِ خداوندی میں محویت و استغراق ہے۔ محبت ایک ازلی صفت ہے۔ اکتسابِ فیض تبھی ہو سکتا ہے جب انسان معاف کرنے کی خو ڈالے‘ در گذر کرنے والا بن جائے‘ انتقامی جذبہ نہ رکھے۔

سب سے پھلے کائنات کی تخلیق کے لئے اللہ تعالٰی کو عشق ہوا تھا یعنی ابتدائے عشق ذاتِ باری تعالٰی نے کی اور انتہائے عشق حضرت امام حسین علیہ السلام نے کی۔ ازل میں ذات اپنے حسن و انوار پر خود ہی عاشق ہوئی پھر زمانے میں عشق پھیل گیا۔