جمعہ، 23 اگست، 2013

مناقبِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

حضراتِ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما

حضرت عمر رضی اللہ عنہ جود و سخا کے معاملات میں فقید المثال ہیں۔ مشائخ نے آپ رضی اللہ عنہ کو کشف و مشاہدہ میں مقدم رکھا ہے۔

مشاہدہ کی درستگی سے دورانِ خطبہ کہا تھا:

يا سارية انظر إلى الجبل

(اے ساریہ! پہاڑ کی طرف دیکھو)

ہفتہ، 17 اگست، 2013

فرمانِ سرکارِ عالی – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

خالقِ کائنات        اللہ تبارک و تعالیٰ

سرورِ کائنات        حضرت محمد رسول اللہ ﷺ

مولائے کائنات    حضرت علی کرم اللہ وجہہ

شہنشاہِ فقر        حضر امام حسین علیہ السلام

 


مصائبِ ساداتِ عظام

اللہ تعالیٰ ‘ ساداتِ عظام کو اس لیے ہمیشہ مصائب میں مبتلا رکھتا ہے کہ ان کو ہمہ وقت حضوری کا خیال رہے اور ہمیشہ عالم بیداری میں رہیں۔ یہی لوگ محبانِ الٰہی ہیں۔

جمعہ، 2 اگست، 2013

فرموداتِ حضرت علی علیہ السلام – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

خندہ روئی سے پیش آنا سب سے پہلی نیکی ہے۔

کار خانۂ قدرت میں فکر کرنا بھی عبادت ہے۔

عادت پر غالب آنا کمالِ فضیلت ہے۔

تجربے کبھی ختم نہیں ہوتے اور عقلمند وہ ہے جو ان میں ترقی کرتا رہے۔

شریف کی پہچان یہ ہے کہ جب کوئی سختی کرے تو سختی سے پیش آتا ہے اور جب اس سے کوئی نرمی کرے تو نرم ہو جاتا ہے۔ اور کمینے سے جب کوئی نرمی کرے تو سختی سے پیش آتا ہے اور جب کوئی سختی کرے تو ڈھیلا ہو جاتا ہے۔

اقرارِ جرم مجرم کے لیے بہت اچھا سفارشی ہے۔

اپنے دلوں سے دوستی کا حال پوچھو کیوں کہ یہ ایسے گواہ ہیں جو کسی سے رشوت نہیں لیتے۔

جب تک کوئی بات تیرے منہ میں بند ہے تب تک تو اس کا مالک ہے‘ جب زَبان سے نکال چکے تو وہ تیری مالک ہو چکی۔

اوّل عمر میں جو وقت ضائع کیا ہے‘ آخر عمر میں اس کا تدارک کر تاکہ انجام بخیر ہو۔

جو لوگ تجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں‘ ان سے علم حاصل کر اور جو نادان ہیں‘ ان کو اپنا علم سکھا۔

اگر تو کسی کے ساتھ احسان کرے تو اس کو مخفی رکھ اور جب تیرے ساتھ کوئی احسان کرے تو اس کو ظاہر کر۔

بدھ، 31 جولائی، 2013

مناقبِ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

حصولِ حقیقت اور معرفت آپ کی عظمت و توقیر بہت زیادہ ہے۔

القابات: امیر المؤمنین‘ المرتضیٰ‘ اسد اللہ‘ کرّرار غیرِ فرّرار‘ الغالب‘ حیدر

کنیت: ابو الحسن‘ ابو تراب
حلیہ مبارک:    آپ کا قد میانہ‘ سینہ چوڑا اور کلائیاں نہایت مضبوط تھیں۔

رنگ گندمی‘ آنکھیں بڑی بڑی‘ ریش مبارک طویل اور چوڑی تھی۔ چہرہ با رونق اور حَسین جسم کے طاقتور اور دل کے مضبوط تھے۔


حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جمعہ، 26 جولائی، 2013

حسنینِ کریمین علیہما السلام – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے حسن اور حسین ؉‘ دونوں سے محبت کی ا س نے مجھ سے محبت کی‘ جس نے ان دونوں سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔

(مسند احمد بن حنبل‘ جلد ۲، صفحہ نمبر ۲۸۸)


حضور اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے‘ حسن اور حسین ؉ دونوں میری دنیا کی بہاریں ہیں۔

(صحیح بخاری)

منگل، 23 جولائی، 2013

نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ قرآن کی روشنی میں – قسط دوم

ازقلم: ڈاکٹر عباس علی قادری

ماہنامہ سوہنے مہربان ماہِ شعبان المعظم 1434ھ

    رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس نور ہے ۔اس شمارے میں نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ کو قرآن کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

قسط اوّل پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں۔

حوالہ رقم 3

    قرآن پاک میں نورانیتِ مصطفی  ﷺ کے متعلق ایک جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا        ؀   وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا        ؀        سورۃ االاحزاب آیت45,46

    ترجمہ۔اے غیب کی خبریں بتانے والے نبیﷺبے شک ہم نے تجھے بھیجا حاضروناظر بنا کر اور خوشخبری دینے والااور ڈر سنانے والااور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والااور نور بانٹنے والاآفتا ب بنا کر۔

    عربی لغت میں سراج سے مراد سورج ہے اور منیر ا سے مراد نور بانٹنے والا،یا نور تقسیم کرنے والا،جو لوگ سِرَاجًا مُّنِیْرًا  کا ترجمہ کرتے ہیں روشن آفتاب وہ صحیح نہیں  ہے کیونکہ عربی میں روشن کے لیے لفظ منور استعمال ہو تا ہے جبکہ منیرسے مراد نور تقسیم کرنے والاکےہیں۔

    اگر ہم قرآن پاک کے الفاظ سِرَاجًا مُّنِیْرًا کی گہرائی میںجاکر دیکھیں ،تو ہمیں پتہ چلے گا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورج کے لیے لفظ استعمال کیا ہے وجعل فیھا سراج اور چاند کے لیے لفظ استعمال کیا ہے وقمرًا منیرًا ۔چونکہ سراج یعنی سور ج کی حکمرانی دن کو ہوتی ہےیعنی وہ دن کو روشنی بکھیرتا ہے اور قمر یعنی چاند کی حکمرانی رات کو ہوتی ہےاوروہ رات کو روشنی تقسیم کرتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ  نے اپنےمحبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ  کے لیے یہ دونوں الفاظ یکجا کر دئیےاور سِرَاجًا مُّنِیْرًا ارشاد فرما کر یہ عیاں کر دیا کہ آپﷺ  کے نور کی ضیا پاشیاں دن کو بھی ہوتی ہیں اور رات کو بھی آپﷺ  کا نور روشنی بکھیرتا ہے۔


جمعہ، 19 جولائی، 2013

سیّدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

(حدیث شریف)

رسالت مآب حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد (اہلِ بیت) کو جہنم کی آگ سے دور رکھا ہے۔ وہ تمام پیغمبروں کی بیٹیوں سے افضل ہیں۔ فاطمہ سلام اللہ علیھا اپنی نورانیت کے سبب زہرا کہلاتی ہے۔ زہرا نورانی کو کہتے ہیں۔ فاطمہ سلام اللہ علیہا جنت کی عورتوں کی سردار ہوں گی اور حضراتِ امام حسن اور حسین ؉ جنت کے جوانوں کے سردار ہوں گے۔

 

علامہ اقبال نے سیّدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں لکھا ہے: