مشاہدہ
توفیقِ الٰہی اور والہانہ ذکرِ الٰہی میں محو رہنے یعنی مجاہدہ سے نصیب ہو گا۔
مشاہدہ
توفیقِ الٰہی اور والہانہ ذکرِ الٰہی میں محو رہنے یعنی مجاہدہ سے نصیب ہو گا۔
ایک مرتبہ حضور سرکارِ عالی رحمۃ اللہ علیہ کا اجمیر شریف جانے کا اتفاق ہوا تو خواجہ حضرت معین الدین چشتی قدس سرہٗ العزیز نے مشفقانہ انداز سے حضور سرکارِ عالی رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ اجمیر شریف کے نواح میں ایک گاؤں ہے مگر وہاں کے باشندے نماز نہیں پڑھتے۔ آپ مہربانی فرما کر میری خاطر ان کو ہدایت کر کے نمازی بنا دیں۔ آپ اس گاؤں میں تشریف لے گئے۔ رات کو سب لوگوں کو مسجد میں اکٹھا کر کے نماز پر وعظ فرمایا۔ نماز کے فائدے بتائے‘ نماز کی اہمیت بتائی کہ نماز دینی فرائض میں ایک اہم فرض ہے جو قابلِ معافی نہیں۔ سب لوگ بہت متاثر ہوئے اور لوگوں نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی نماز نہ چھوڑیں گے۔ آپ نے ان سے کئے گئے وعدہ پر عہد لیا اور فرمایا کہ میں صبح گاؤں سے چلا جاؤں گا۔ لوگ آپ سے اتنے متاثر ہوئے تھے کہ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو جانے نہیں دیں گے اور انہوں نے تمام گلیوں‘ راستوں کے موڑ پر پہرے لگا دیئے۔ حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز رات کے پچھلے پہر مسجد سے نکل کر اسٹیشن کی طرف عازمِ سفر ہوئے۔ راستے میں سب پہرے دار اپنی لاٹھیوں کا سہارا لے کر سو رہے تھے۔ اس طرح سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز وہاں سے نکل آئے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے تصرف کی یہ زندہ مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پروگرام اور ارادے کے مطابق پہرے داروں پر نیند مسلط کر دی تاکہ وہ حائل نہ ہو سکیں۔
نورِ قلب
اللہُ کے ذکرِ حق میں محو رہنے سے ہو گا۔
بھوک
بھوکا رہنے سے باطن روشن و معمور ہو جاتا ہے‘ مشاہدہ ہوتا ہے۔
برّ صغیر کی سیاحت کے دوران خواجہ غریب نواز خواجہ معین الدین چشتی رضی اللہ عنہ نے حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز سے فرمایا کہ آپ محفل کا اہتمام کریں‘ ہم بذاتِ خود محفل میں شرکت کریں گے۔ اس پر حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے سفر ترک کر کے انبالہ چھائونی میں خواجہ صاحب رضی اللہ عنہ کی حسبِ خواہش محفل کا اہتمام فرمایا۔ آپ نے مریدین کے ذریعے لوگوں کو محفل میں شرکت کرنے اور تبرک کھانے کی دعوت دی۔ اس موقع پر دو دیگ تبرک تیار کروایا جو کئی ہزار نفوس کے کھانے کے باوجود بچ گیا۔ آپ کی اس کرامت کی شہرت انبالہ کے علاقہ میں دور دور تک پھیل گئی اور اسی روز سے لوگ اپنی مرادیں حاصل کرنے کے لیے جوق در جوق آنا شروع ہو گئے۔ خدمتِ خلق کی خاطر حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز کو انبالہ میں تین سال تک رکنا پڑا۔ آخر کار حضورِ پاک انبالہ چھائونی کو خیر باد کہہ کر اپنے گھر‘ منڈیر شریف (1939ء) میں تشریف لے آئے۔
آپ سفر کے دوران ساہوالہ کے قریب پہنچے تو آپ کو ایک بزرگ سبز کپڑے زیبِ تن فرمائے ملے اور پوچھا: ’’بیٹا! کہاں جا رہے ہو؟‘‘ آپ نے فرمایا یہ تو مجھے معلوم نہیں۔ آپ کا یہ جواب سن کر اس بزرگ نے فرمایا ماشاء اللہ کم سنی میں عشق کی یہ آگ! سمندر پی جاؤ گے مگر پیاس نہیں بجھے گی اور عشق کی آگ دہکتی رہے گی۔ یہ کہہ کر وہ بزرگ غائب ہو گئے۔ بعد میں حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے بتایا کہ وہ بزرگ حضور غوث الثقلین رضی اللہ عنہ تھے۔