جمعہ، 15 مئی، 2015

بچپن کی فیاضی – مصباح العرفان

دوسروں کی ضرورت کا خیال کرنا؛ دوسروں کا دکھ محسوس کر کے اسے دور کرنے کی کوشش کرنا؛ سخاوت و فیاضی بچپن سے آپؒ کے مزاج کا خاصہ تھی۔ سرکارِ عالیؒ کے بچپن کی سخاوت کا یہ قصہ زدِ زبانِ عام ہے۔ آپؒ کی عمر اس وقت بمشکل چار پانچ سال ہو گی۔ گھر والوں نے بڑی محبت سے آپ کے کانوں میں چھوٹی چھوٹی بالیاں پہنا دی تھیں۔ آپ جانتے ہیں کہ دیہات میں غریب عورتیں بچوں کے لئے مٹی کے کھلونے فروخت کر کے اپنی اور اپنے بچوں کی روزی کا سامان مہیا کرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک عورت آپ کی گلی میں آئی اور ’’گھگو گھوڑے لے لو‘‘ کی آواز لگائی۔ گاؤں کے بچے بالے خریدنے کے لیے اکھٹے ہو گئے۔ آپؒ وہاں کھڑے ہو کر دلچسپی سے انہیں دیکھتے رہے۔ اس عورت کی نظر آپؒ کے چہرے پر پڑی تو دیکھتی ہی رہ گئی۔ لیکن جب اس کی نظر آپ کے کانوں پر پڑی تو اس نے پوچھا کہ بیٹا یہ بالیاں تم نے کہاں سے لی ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ میرے گھر والوں نے پہنائی ہیں۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ کاش میرے پاس پیسے ہوں تو میں ایسی بالیاں بنوا کر اپنی بیٹی کو جہیز میں دے سکوں۔ اس نے کہا، بیٹے سیّد زادے ہو۔ میرے سوہنے نبی ﷺ کا نور تمہارے چہرے پر چمک رہا ہے۔ میرے لئے دعا کرو کہ اللہ مجھے بھی اتنے پیسے دے کہ میں اپنی بچی کو جہیز میں ایسی بالیاں دے سکوں۔ اللہ سادات کی دعائیں قبول کرتا ہے۔ اس کی اس بات نے آپ کے دل پر گہرا اثر کیا ۔ ساتھ ہی حیدری خون نے جوش مارا اور رگِ سخاوت پھڑک اٹھی۔ آپؒ نے اپنے کان اس عورت کے آگے کر دیے اور کہا کہ مائی! یہ بالیاں اتار لو، اپنی بیٹی کو جہیز میں دے دینا۔

اس عورت نے کہا ’’ناں، بابا! ناں۔ میں نہیں لیتی۔ تمہارے گھر والے مجھے پکڑ کر ماریں گے‘‘۔

’’تم بے فکر ہو کر اتار لو، میں خود تمہیں گاؤں کی حد سے با ہر چھوڑ آؤں گا‘‘، آپ نے اس عورت سے کہا۔ اس عورت نے ڈرتے ڈرتے وہ بالیاں اتار لیں۔ آپ اس کے ہمراہ ہو لیے اور گاؤں کی حد سے باہر نکل کر اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ عورت نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی۔ جب آپ گھر پہنچے تو گھر والوں نے پوچھا کہ بالیاں کدھر گئیں۔ معصومیت سے کہنے لگے گھگھو گھوڑے بیچنے والی غریب عورت کو اپنی بچی کی شادی کے لیے ضرورت تھی۔ میں نے اسے دے دیں۔ گھر والے مسکرا کر رہ گئے۔

جمعہ، 8 مئی، 2015

بالائی کھانے کا شوق – مصباح العرفان

آپؒ کے بچپن کی ایک یہ کرامت بھی میرے علم میں ہے۔ سرکارِ عالیؒ کو بچپن سے بالائی کھانے کا بڑا شوق تھا۔ اپنے گھر کے علاوہ دیگر رشتہ دار سادات گھروں کا چکر لگاتے اور وہاں سے بالائی اتار کر کھا جاتے۔ اگر موج میں ہوتے تو دودھ بھی پی جاتے۔ ایک روز کسی گھر نے آپ کو بالائی کھانے سے روک دیا۔ آپ ناراض ہو کر گھر لوٹ آئے۔ لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس روز جب انہوں نے بھینسوں کا دودھ ابالنے کے لئے چولہے کے اوپر رکھا دودھ تو ابل گیا لیکن گھر کا سارا ایندھن جلانے کے باوجود  دودھ پر بالائی کا نشان تک نہ آیا۔ وہ بہت پریشان ہوئے۔ یہ بات آپ کے نانا جان میر شرف علی شاہ صاحبؒ تک جا پہنچی۔ آپؒ پر ساری بات منکشف ہو گئی۔ انہوں نے فرمایا، جس کو بالائی کھانے سے روکا تھا، اسی کو منا کر لاؤ۔ پھر بالائی آئے گی۔ وہ لوگ فوراً سرکارِ عالیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور منت سماجت کر کے آپ کو راضی کیا۔ تب ان کے دودھ پر بالائی آنا شروع ہوئی۔ اب کوئی بھی آپؒ کا ہاتھ نہ روکتا تھا۔

جمعہ، 1 مئی، 2015

بچپن – مصباح العرفان

سخیٔ کاملؒ نے مجھے سرکارِ عالیؒ کے بچپن سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ابھی بالکل کمسن تھے کہ آپ کے والدِ محترم کا وصال ہو گیا۔ تقریباً چھ سال کے ہوئے تو آپ کے شفیق نانا جان حضرت میر شرف علی شاہ صاحبؒ راہیٔ مُلکِ عدم ہوئے۔ پھر والدۂ محترمہ تیرِ قضاء کا نشانہ بن کر داغِ مفارقت دے گئیں۔ اس کے بعد آپ کے دادا جان بھی اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ اب تربیت کی تمام تر ذمہ داری آپ کی ضعیف دادی صاحبہ کے کندھوں پر آپڑی۔ آخر وہ یومِ سعید آپہنچا جس کا انتظار تھا۔ آپ کی دادی صاحبہ نے اپنے پاس محفوظ امانت یعنی تاجِ محبوبیت سرکارِ عالیؒ کے سپرد کر دیا۔ اس طرح وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو گئیں۔ پھر جلد ہی وہ بھی راہیٔ مُلکِ عدم ہوئیں۔

جمعہ، 24 اپریل، 2015

ولادتِ با سعادت کی بشارت – مصباح العرفان

آپؒ کی اس ظاہری دنیا میں تشریف آوری اور مقامِ محبوبیت پر فائز ہونے کا تذکرہ سلسلہ قادریہ عالیہ کے اس خاندان سادات میں بہت عرصہ سے ہوتا چلا آرہا تھا۔ آپ کے نانا جان حضرت میر شرف علی شاہ صاحبؒ، سرکارِ عالیؒ کی ولایت اور بلند اقبالی سے بخوبی آگاہ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے نواسے احمد حسینؒ کو اپنی آنکھوں کا نور اور جگر کی ٹھنڈک بنا رکھا تھا۔ میر شرف علی شاہؒ خود بھی بڑے صاحبِ نظر اور ولایت کے اعلیٰ درجے پر فائز بزرگ تھے۔ وہ آپ سے بہت پیار کرتے اور آپ کی تربیت پر خصوصی توجہ فرماتے۔ وہ فرماتے کہ میرا احمد حسین ولایت کا شہباز ہوگا۔ اس کی ولایت پر اولیاء اللہ رشک کریں گے۔ سخیٔ کاملؒ نے مجھے بتایا کہ ایک روز میر شرف علی شاہؒ نے اپنی دختر یعنی والدۂ محترمۂ سیّد احمد حسینؒ کو ایک تاجِ مبارک دیا کہ یہ میری طرف سے احمد حسین کے لئے ہے۔ اسے اپنے پاس امانت کے طور پر سنبھال کر رکھ لو۔ ہو سکتا ہے مجھے اللہ کی طرف سے جلد بلاوا آ جائے۔ احمد حسینؒ کے جوان ہونے تک اگر تم زندہ نہ رہو تو یہ امانت اس کی دادی کے سپرد کر دینا۔ وہ اسے احمد حسین تک پہنچا دیں گی۔ اس بات کے کچھ عرصہ بعد‘ ۴ ذو الحجہ ۱۳۲۲ھ؁‘ بمطابق ۹ فروری ۱۹۰۵ء؁‘ بروز جمعرات‘ میر شرف علی شاہ صاحبؒ کو اللہ کی طرف سے بلاوا آ گیا اور وہ اس دارِ فانی سے عالم بقاء کی طرف کوچ کر گئے۔ پھر یہ تاجِ محبوبیت کچھ عرصہ سرکارِ عالی کی والدۂ محترمہ کی تحویل میں رہا۔ جب ان کا وقتِ وصال قریب آیا تو انہوں نے یہ امانت آپ کی دادی صاحبہ کے سپرد کر دی۔ اس طرح یہ تاجِ محبوبیت آپؒ کی دادی محترمہ کے ہاتھوں سرکارِ عالیؒ تک پہنچ گیا۔

جمعہ، 17 اپریل، 2015

اسمِ گرامی – مصباح العرفان

اس عالم رنگ و بو میں جب آپ کی رونمائی ہو چکی تو آپ کا نامِ نامی‘ اسمِ گرامی احمد حسین اور کنیت ابو محمد تجویز ہوئی۔ آپ نجیب الطرفین (حسنی و حسینی) سیّد ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب 38 واسطوں سے حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور سیّدۃ النساء العالمین سیّدہ فاطمۃ الزہرا (سلام اللہ علیہا) بنت حبیبِ خدا حضرت محمد مصطفی ﷺ سے جا ملتا ہے۔

جمعہ، 10 اپریل، 2015

عالَمِ رنگ و بومیں آمد – مصباح العرفان

یہ ہستی جس کا تذکرہ مقصود ہے وہ اسی سرزمین منڈیر سیّداں میں اپنے والدِ ماجد حضرت قبلہ سیّد نواب علی شاہ قدس سرہ العزیز کے ہاں‘ بتاریخ 12 ربیع الاوّل ۱۳۱۷ھ؁ ہجری‘ بمطابق 1899ء؁‘ بروز جمعۃ المبارک‘ رات کے اس حصے میں اس عالم رنگ و بو میں جلوہ آراء ہوئے جس وقت تاریکی چھٹ رہی تھی اور صبحِ صادق نمودار ہورہی تھی۔ گویا قدرتِ کاملہ کی طرف سے ایک بلیغ اشارہ تھا کہ میرا ایسا پیارا بندہ دنیا میں قدم رنجہ فرما رہا ہے جس کے دم قدم سے زمانے کے نصیب چمک اٹھیں گے۔

جمعہ، 3 اپریل، 2015

منڈیر کی کیا بات ہے – مصباح العرفان

منڈیر کی کیا بات ہے
منڈیر کی کیا بات ہے
منڈیر کی کیا بات ہے
حل کیوں نہ ہوں میری مشکلیں
میرا آقا محبوبِ ذاتؒ ہے
منڈیر کی کیا بات ہے