جمعہ، 17 جولائی، 2015

وصال شریف – مصباح العرفان

سرکارِ عالیؒ نے 63 سال کی عمر میں اس دارِ فانی سے پردہ فرمایا۔ اولیائے کرام نے ہمیشہ چاہا کہ ان کی عمر پیارے آقا ﷺ کی عمرِ عزیز سے بڑھنے نہ پائے۔ زندگی اور موت چونکہ اللہ کریم کے ہاتھ میں ہے‘ اس لئے ہر ولی کی خواہش تو ممکن ہے پوری نہ ہوئی ہو لیکن چیدہ چیدہ ایسے مقبولِ بارگاہ اولیائے کرام ضرور ہوئے ہیں جن کی خواہش اللہ کریم نے پوری فرما دی۔ سرکارِ عالیؒ بھی ان خوش نصیب اولیائے کرام میں سے ایک ہیں۔

جمعہ، 10 جولائی، 2015

اولاد – مصباح العرفان

اولادِ نرینہ:۔

میرے دادا جان حضور عالی سرکارؒ کے چار بیٹے ہیں۔ ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں: حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانیؒ، حضرت سیّد اقبال احمد حسین گیلانی، حضرت سیّد افتخار احمد حسین گیلانیؒ اور حضرت سیّد امجد علی شاہ گیلانی۔ اللہ کے فضل و کرم سے یہ چاروں صاحبزادے صاحبِ اولاد ہیں اور ان کے بیٹوں کی تعداد 13 ہے۔ اب تو ما شاء اللہ سرکارِ عالیؒ کا خاندان بہت پَھل پھول گیا ہے۔ ان میں سے حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانیؒ اور حضرت سیّد افتخار احمد حسین گیلانیؒ وصال پا چکے ہیں جبکہ حضرت سیّد اقبال احمد حسین گیلانی‘ جنہیں دوم صاحب کہا جاتا ہے‘ اور حضرت سیّد امجد علی شاہ گیلانی‘ جنہیں چہارم صاحب کہا جاتا ہے‘ اللہ کے فضل و کرم سے بقیدِ حیات ہیں اور میری سرپرستی فرما رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ کریم ان کا سایہ میرے سر پر ہمیشہ سلامت رکھے۔

جمعہ، 3 جولائی، 2015

شادی – مصباح العرفان

آپؒ کی گھر آمد پر سب گھر والوں نے بہت خوشی منائی۔ خاندان کے بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ اب آپ کی شادی کر دی جائے۔ لہٰذا انہوں نے آپ سے نبی پاک ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی درخواست کی۔ حضورِ پاک ﷺ کی سُنّتِ مطہرہ کا ذکر آتے ہی آپ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور سمجھ گئے کہ اس سے مراد شادی ہے۔ آپ نے مسکراتے ہوئے رضامندی ظاہر کر دی۔ آپ کی اس ہاں سے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ چنانچہ آپؒ کے لیے رفیقۂ حیات ڈھونڈنے کی تگ و دو شروع ہوئی۔ رشتے تو بہت نظر میں آئے لیکن قرعۂ فال بٹالہ شریف میں حضرت آغا بدیع الدین گیلانی شہید کے خاندان کے نام نکلا۔ یہ خاندان انڈیا میں نیکی‘ شرافت‘ اخلاق‘ طریقت و معرفت کی ایک کہکشاں کی مانند تھا۔ اس کہکشاں کی ایک عالی مرتبت بلند اقبال اور عظیم شخصیت حضرت قبلہ سیّد مظفر علی شاہ صاحب‘ جن کا سلسلہ نسب بھی اسی خاندان کی طرح حضرت سیّدنا عبدالرزاقؒ سے جاملتا ہے‘ نے اپنی دخترِ نیک اختر کا ہاتھ سرکارِ عالیؒ کے ہاتھ میں دینے کی رضامندی ظاہر کر دی اور یوں 25 ذو ا لحجہ ۱۳۳۳ھ بمطابق 4 نومبر1915ء کو آپ کی شادی سر انجام پائی۔

جمعہ، 26 جون، 2015

آپؒ کا پیراہن

آپؒ کا لباس بہت سادہ مگر نہایت صاف ستھرا ہوتا۔ آپؒ نے منڈیر شریف میں مستقل قیام کے بعد عربی لباس زیبِ تن فرمایا، جس کے اوپر اکثر سبز اور سیاہ رنگ کی قبا پہنتے۔ سیاہ رنگ کی بہت تعظیم کرتے۔ کوشش کرتے کہ سیاہ رنگ کا جوتا کبھی استعمال نہ ہو۔ مریدین کی محفل میں زمین پر مسند لگا کر رونق افروز ہوتے۔ سفید رنگ زیادہ پسند تھا۔ شیروانی اکثر زیبِ تن فرماتے۔ پیٹی باندھتے، جس میں تلوار‘ خنجر اور پستول وغیرہ آویزاں ہوتے اور گلے میں قرآنِ مجید حمائل ہوتا۔ دائیں ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھیاں ہوتیں جن کا نگینہ عموماً یمنی یاقوت کا ہوتا اور پاؤں میں سادہ مکیشن پہنتے۔ گولڈن چشمہ بھی لگاتے۔ آپؒ کے استعمال کی چیزیں کنگھی‘ سرمہ دانی‘ لباس‘ مصلّٰے‘ تسبیح‘ قرآنِ مجید‘ انگوٹھیاں‘ یہ تمام تبرکات ہمارے پاس بڑے ادب و احترام سے محفوظ ہیں۔

جمعہ، 19 جون، 2015

نوجوانی – مصباح العرفان

میں نے گھر کے بزرگوں سے سنا ہے کہ جوانی میں آپؒ حسن و جمال کی انتہائی متوازن شخصیت تھے۔ آپؒ کی سیرتِ مبارکہ اور چہرۂ انور کی پھبن کے بارے میں عالی سرکارؒ کے جانشین اور خلیفۂ اوّل‘ سیّدی‘ مرشدی‘ قبلہ و کعبہ‘ السیّد حضرت افضال احمد حسین گیلانی‘ سخیٔ کامل رقمطراز ہیں۔

جمعہ، 12 جون، 2015

سرکار غوثِ اعظمؒ سے شرف بیعت – مصباح العرفان

سرکارِ عالیؒ نے سیالکوٹ سے ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ وزیر آباد کی طرف سفر شروع کر دیا اور اگوکی کے قریب بابا ملک شاہ ولیؒ کے مزار پر ٹھہرے۔ اس وقت نمازِ تہجد کا وقت تھا۔ آپؒ جب تہجد سے فارغ ہوئے تو ایک سبز پوش بزرگ‘ جنہوں نے سبز رنگ کی بڑی سی پگڑی باندھ رکھی تھی‘ ان سے ملے اور فرمایا کہ بیٹا یہ تمہاری منزل نہیں۔

جمعہ، 5 جون، 2015

مزارات پر حاضری – مصباح العرفان

جن دنوں آپؒ گوشہ نشین تھے‘ ان دنوں آپ پر استغراق کا زبردست غلبہ تھا۔ آپؒ کو غیب سے اشارہ ہوا کہ استغراق کے اس عالم سے نکلنے کے لیے مزارات پر حاضری دینا شروع کریں۔  چنانچہ آپؒ سب سے پہلے قیام کی نیت سے سیالکوٹ میں امام علی الحقؒ کے مزار پر تشریف لے گئے۔ نمازِ عشاء کے بعد مجاوروں نے اگلی صبح کے لیے مزار کا دروازہ بند کر دیا اور آپؒ کو اندر فروکش ہونے کی اجازت نہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مزار پر رات ٹھہرنے والا صبح کبھی زندہ نہیں ملا۔  اس لئے ہم آپ کو یہ خطرہ مول لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ آپؒ وہاں سے واپس چلے آئے۔