آپؒ کا اندازِ گفتگو من موہنا، کریمانہ‘ دلبرانہ اور ناصحانہ تھا۔ کبھی کسی کو طعن و تشنیع یا طنز کا نشانہ بناتے۔ آپؒ کو نہ دیکھا گیا۔ آپؒ ہر ایک کو ’’سوہنیا‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے۔ جو کوئی ایک بار مل لیتا، پھر وہ ساری زندگی آپؒ کو فراموش نہ کر سکتا۔ آپؒ اپنے اَخلاق سے ہر آنے والے کو اپنا ایسا گرویدہ بنا لیتے کہ وہ آپؒ کی غلامی اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتا۔ آپؒ نے اپنے اس میٹھے اور مدنی اخلاق سے ہزاروں بے دینوں کو دینِ اسلام پر گامزن کیا، بے شمار بد عقیدہ لوگوں کے عقائد کو درست کیا اور بے شمار راہِ گم کردہ افراد کو صراطِ مستقیم پر گامزن کیا۔
جمعہ، 9 اکتوبر، 2015
جمعہ، 11 ستمبر، 2015
جمعہ، 21 اگست، 2015
انسانِ کامل – بے نشاں کا نشاں – مصباح العرفان
سخیٔ کامل‘ مرشدِ دوراں، عکسِ محبوبِ ذاتؒ، سجادہ نشین آستانہ عالیہ قادریہ احمد حسینیہ‘ سیّد افضال احمد حسینؒ نے سرکارِ عالیؒ کے وصال پُر ملال پر انہیں اس طرح خراجِ تحسین پیش کیا:
انسانِ کامل ۔ بے نشاں کا نشاں
جمعہ، 14 اگست، 2015
وصالِ شریف کے بعد خراجِ تحسین
سرکارِ عالیؒ کے وصالِ شریف کے بعد پاکستان بھر کی ہر قابلِ ذکر ہستی نے آپؒ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی شخصیت کے وصال پر ملنے والے‘ متعلقین یا فیض یافتہ لوگ تو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں لیکن خاندان والے یا عزیز و اقارب کم ہی تعریف کرتے ہیں۔ وہ رفتگان کی معمولی معمولی فروگزاشتوں کو کرید کرید کر سامنے کر دیتے ہیں۔ لیکن کردار کی عظمت تو یہی ہے کہ عزیز و اقارب بھی بول اٹھیں: مرحبا مرحبا، کیا فرشتہ خصلت انسان تھا۔
جمعہ، 31 جولائی، 2015
وصال شریف – مصباح العرفان
میری عمر اس وقت گیارہ بارہ سال تھی اور میں نے سرکارِ عالیؒ کے وصال و تدفین کا پورا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح سارا خاندان غمناک تھا۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ مخلوقِ خدا آپؒ کی آخری بار زیارت کے لیے جوق در جوق اُمڈی چلی آرہی تھی۔ آپؒ کی نمازِ جنازہ کے وقت بڑے رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ لوگ آنکھوں میں آنسو لئے جنازہ کو کندھا دینے کے لیے بے تابانہ آگے بڑھ رہے تھے۔ کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اشکبار نہ ہو۔ لوگ ایک دوسرے کے گلے لگ کر یوں رو رہے تھے جیسے نہ جانے کتنی پیاری شخصیت ان سے الگ ہو رہی ہو۔ پھر جب آپؒ کے جسدِ مبارک کو لحد میں اتارا جانے لگا تو آہوں اور سسکیوں کا شور ایک بار پھر بلند ہوا۔ یہ سارے مناظر آج تک میرے حافظے کی اسکرین پر موجود ہیں۔ جب کبھی تنہائی ان مناظر کو دہراتی ہے تو میرا دامن آنسوؤں سے بھیگ جاتا ہے اور دل انتہائی اداس ہو جاتاہے۔
آپ کا عرس مبارک منڈیر سیّداں شریف میں ہر سال 21 شعبان المعظم کوب ڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے۔
جمعہ، 17 جولائی، 2015
وصال شریف – مصباح العرفان
سرکارِ عالیؒ نے 63 سال کی عمر میں اس دارِ فانی سے پردہ فرمایا۔ اولیائے کرام نے ہمیشہ چاہا کہ ان کی عمر پیارے آقا ﷺ کی عمرِ عزیز سے بڑھنے نہ پائے۔ زندگی اور موت چونکہ اللہ کریم کے ہاتھ میں ہے‘ اس لئے ہر ولی کی خواہش تو ممکن ہے پوری نہ ہوئی ہو لیکن چیدہ چیدہ ایسے مقبولِ بارگاہ اولیائے کرام ضرور ہوئے ہیں جن کی خواہش اللہ کریم نے پوری فرما دی۔ سرکارِ عالیؒ بھی ان خوش نصیب اولیائے کرام میں سے ایک ہیں۔
جمعہ، 10 جولائی، 2015
اولاد – مصباح العرفان
اولادِ نرینہ:۔
میرے دادا جان حضور عالی سرکارؒ کے چار بیٹے ہیں۔ ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں: حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانیؒ، حضرت سیّد اقبال احمد حسین گیلانی، حضرت سیّد افتخار احمد حسین گیلانیؒ اور حضرت سیّد امجد علی شاہ گیلانی۔ اللہ کے فضل و کرم سے یہ چاروں صاحبزادے صاحبِ اولاد ہیں اور ان کے بیٹوں کی تعداد 13 ہے۔ اب تو ما شاء اللہ سرکارِ عالیؒ کا خاندان بہت پَھل پھول گیا ہے۔ ان میں سے حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانیؒ اور حضرت سیّد افتخار احمد حسین گیلانیؒ وصال پا چکے ہیں جبکہ حضرت سیّد اقبال احمد حسین گیلانی‘ جنہیں دوم صاحب کہا جاتا ہے‘ اور حضرت سیّد امجد علی شاہ گیلانی‘ جنہیں چہارم صاحب کہا جاتا ہے‘ اللہ کے فضل و کرم سے بقیدِ حیات ہیں اور میری سرپرستی فرما رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ کریم ان کا سایہ میرے سر پر ہمیشہ سلامت رکھے۔