جمعہ، 18 مارچ، 2016

ولا تخسروا المیزان – مصباح العرفان

یہ واقعہ والدِ محترم و مرشدِ کاملؒ حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانیؒ حضور نے مجھے اس طرح سنایا کہ سرکارِ عالیؒ نے فرمایا: میں نے ایک دن قرآنِ مجید میں پڑھا ’’ولا تخسروا المیزان‘‘ کہ ترازو میں کمی نہ کرو‘ پورا تولو۔ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس کا عملی مظاہرہ کر کے لوگوں کو دکھانا چاہیے۔  چنانچہ میں نے ترازو اور باٹ خرید کر کریانہ کی دکان کھولی۔ گاہک آنا شروع ہوگئے۔ میں صحیح باٹوں کے ساتھ سیدھا ترازو رکھ کر سودا دیتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ دکان بھی خوب چل نکلی۔ کافی سیل ہوتی۔ ایک دن میں نے سوچا میرے اس عملی نمونہ پیش کرنے کے بعد بھی دیگر دکانداروں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ وہ بدستور کم وزن باٹ استعمال کر رہے ہیں اور کم وزن تول رہے ہیں۔ لہٰذا میں نے وہاں بھی دکان راہِ خدا میں لٹا دی۔

جمعہ، 8 جنوری، 2016

والدِ محترم و مرشدِ کامل‘ حضرت سید افضال احمد حسین گیلانیؒ گاہے گاہے عالی سرکارؒ کی حیاتِ پاک کی نقاب کشی کر کے مجھے آپ کے اوصافِ حسنہ سے آگاہی کا موقع فراہم کرتے رہتے۔ آپؒ بتاتے کہ سرکارِ عالیؒ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے بے سہارا، غریب‘ مسکین‘ ضرورت مند اور مصیبت زدہ لوگوں کی خدمت کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ مصیبت زدہ لوگوں کو حوصلہ دینا، ضرورت مندوں کی مالی استعانت کرنا اور بھوکوں کو کھانا کھلانا آپؒ کا روزانہ کا معمول تھا۔ سخیٔ کاملؒ نے مجھے بتایا کہ سرکارِ عالیؒ نے پورے بر صغیر کا پیدل سفر کیا اور ہزاروں انسانوں کو بلا امتیازِ دین‘ مسلک اور عقیدہ‘ اپنے ظاہری و باطنی فیوض سے نوازا۔ کوئی سائل آپؒ کے در سے خالی نہ گیا۔ اُمتِ محمدیہ ﷺ کے ہر فرد تک آپؒ نے اپنے خُلُقِ عظیم کا فیضان پہنچانے کا ہرممکن جتن کیا۔

جمعہ، 11 دسمبر، 2015

عجز و انکساری – مصباح العرفان

میرے مرشدِ کریم‘ سخیٔ کاملؒ مجھے بتایا کرتے کہ سرکارِ عالیؒ فقر کے شہنشاہ تھے اور محبوبِ ذات کے درجے پر فائز تھے۔ یہ ولایت کے اعلی ترین مراتب ہیں جن پر خال خال گنے چنے لوگ ہی پہنچتے ہیں۔ لیکن اتنے اعلی ترین مناصب رکھنے کے باوجود آپؒ پر تکبر و غرور کی بجائے انتہا درجے کی عاجزی و انکساری تھی۔ سخیٔ کاملؒ نے مجھے فرمایا کہ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی کو معمولی سے روشنی دکھائی دے یا کسی مرید کو اس کا مرشد دو چار بار مسکرا کر بلا لے تو اس کا سر آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے اور دوسرے سب لوگ اسے حقیر نظر آنے لگتے ہیں۔ لیکن قربان جائیں سرکارِ عالیؒ پر کہ جس قدر مراتب بلند ہوتے گئے‘ آپؒ اسی قدر عاجزی اختیار کرتے چلے گئے‘ جس طرح کہ کسی درخت کو جیسے جیسے پھل لگتا چلا جاتا ہے، اسی قدر وہ جھکتا چلا جاتا ہے۔ سرکا رِ عالیؒ کا عجز بیان کرتے ہوئے مجھ سے سخیٔ کاملؒ نے فرمایا کہ عالی سرکارؒ نے کبھی تکبر یا گھمنڈ نہ کیا اور نہ ہی بڑا بول بولا۔ اپنی تعریف سننا قطعاً گوارا نہ فرماتے۔ اگر کوئی آپؒ کی تعریف بیان کرتا تو فوراً منع کر دیتے اور فرماتے کہ اللہ کی تعریف کرو جو سب تعریفوں کا مالک ہے۔ اس عاجزی اور انکساری کی اعلیٰ ترین مثال یہ ہے کہ آپؒ ولایت اور فقر کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز تھے لیکن غریبوں‘ یتیموں اور مسکینوں سے بے حد پیار کرتے؛ ان کی ظاہری و باطنی‘ ہر طرح کی‘ امداد فرماتے؛ ہمیشہ زمین پر مسند لگا کر عام لوگوں میں بیٹھتے؛ اور کبھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش نہ کرتے۔ اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ آپؒ نے حمدیہ اور عارفانہ کلام لکھا، عشقِ مصطفیٰ میں ڈوب کر نبیٔ رحمتﷺ کے حضور نعتیہ نذرانہ پیش کیا، حضرت مولا علیؑ مشکل کشا اور سرکار غوثِ اعظم قدس سرہٗ العزیز کے حضور منقبتیں بھی تحریر کیں‘ لیکن اپنے لئے تخلص عاجزؔ  پسند فرمایا۔

جمعہ، 16 اکتوبر، 2015

حُسن سلوک – مصباح العرفان

میرے مرشدِ کریم‘ سخیٔ کاملؒ نے مجھے بتایا کہ سرکارِ عالیؒ کے اوصافِ حسنہ میں یہ بات بھی نہایت نمایاں طور پر موجود تھی کہ آپ اپنے اہلِ خانہ‘ عزیز و اقارب‘ مریدین اور سائلین حضرات‘ سب کے ساتھ نہایت احسن سلوک کا مظاہرہ کرتے۔ اندرونِ خانہ بھی سب کے ساتھ آپ کا برتاؤ نہایت منصفانہ تھا۔ گھر کی خواتین کی بھی بہت عزت کرتے؛ نہایت مناسب الفاظ میں انہیں مخاطب کرتے۔ میں اور بھائی شاہ کمال چھوٹے بچے تھے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ دادا حضورؒ نے ہمیشہ ہم کو شفقت و محبت کی نظر سے ہی دیکھا۔ آپؒ ہمارا ہر طرح سے خیال رکھتے۔ ہماری شرارتوں پر بھی ہمیں کبھی جھڑکتے نہیں تھے بلکہ تبسم فرما کر شفقت کرتے۔ اسی طرح آپؒ اپنے عزیز و اقارب کا بھی خیال رکھتے اور ان کو حفظِ مراتب کے مطابق پروٹوکول دیتے‘ لطف و کرم سے نوازتے۔ سخیٔ کاملؒ نے مجھے بتایا کہ بُردباری‘ عفو و درگزر‘ سرکارِ عالیؒ کے اوصافِ حسنہ کا روشن باب ہیں۔ مریدین کو دوست کہہ کر پکارتے؛ انہیں اپنی اولاد سے بڑھ کر نوازتے؛ فرماتے مریدین ہماری اولاد ہیں۔ مریدین کی کسی کوتاہی یا غلطی پر ہمیشہ درگزر فرماتے۔ آپؒ کے بعض خلفاء حضرات نے مجھے بتایا کہ بعض مریدین سے سنگین قسم کی غلطیاں ہو جاتیں‘ مثلاً وہ آپس میں لڑ پڑتے یا ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے‘ بعض سے قیمتی برتن ٹوٹ جاتے یا گم ہو جاتے‘ تو آپؒ ہمیشہ شفقت کا مظاہرہ کرتے۔ کبھی کسی پر ناراض ہوتے یا سرزنش کرتے آپؒ کو دیکھا نہ گیا۔ وہ خلق کے لئے سراپا راحت ہی راحت تھے۔

جمعہ، 9 اکتوبر، 2015

گفتگو – مصباح العرفان

آپؒ کا اندازِ گفتگو من موہنا، کریمانہ‘ دلبرانہ اور ناصحانہ تھا۔ کبھی کسی کو طعن و تشنیع یا طنز کا نشانہ بناتے۔ آپؒ کو نہ دیکھا گیا۔ آپؒ ہر ایک کو ’’سوہنیا‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے۔ جو کوئی ایک بار مل لیتا، پھر وہ ساری زندگی آپؒ کو فراموش نہ کر سکتا۔ آپؒ اپنے اَخلاق سے ہر آنے والے کو اپنا ایسا گرویدہ بنا لیتے کہ وہ آپؒ کی غلامی اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتا۔ آپؒ نے اپنے اس میٹھے اور مدنی اخلاق سے ہزاروں بے دینوں کو دینِ اسلام پر گامزن کیا، بے شمار بد عقیدہ  لوگوں کے عقائد کو درست کیا اور بے شمار راہِ گم کردہ افراد کو صراطِ مستقیم پر گامزن کیا۔