تصوف و طریقت روحِ اسلام ہے۔ عہدِ حاضر میں چند ایسے بھی ہیں جو کہ بضد و مخالف ہیں مگر ذرا علمی خانقاہت پر غور کریں گے تو خوب نظر آئے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ لیکن اس کے لیے حق بین چشم مضطر کی بے حد ضرورت ہے۔ کہیں خانقایت کو شرک تو کہیں بدعت کہا جاتا ہے۔ در اصل کور نگاہ ہے۔ بیمار کی اپنی حسِ ذائقہ کڑوی ہو تو میٹھی سے میٹھی تر شیریں ذائقہ چیز بھی کھلائیں تو کڑوی ہی محسوس ہو گی۔
جمعہ، 30 جنوری، 2015
جمعہ، 23 جنوری، 2015
اظہارِ تشکر – مصباح العرفان
جمعہ، 16 جنوری، 2015
تقریظ – مصباح العرفان
سرکارِ عالی، بندہ پرورعاصی نواز حضرت سیّد احمد حسین گیلانی محبوبِ ذاتؒ قدس سرہٗ العزیز نے دنیائے اسلام کی بالعمو م اور خطۂ پاکستان کی بالخصوص زبردست روحانی شخصیت کے طور پر اپنا سکہ منوایا۔ دُنیا بھر میں آپ کے مریدین ومعتقدین کی قابلِ ذکر تعداد موجود ہے۔
جمعہ، 9 جنوری، 2015
پیشِ لفظ – مصباح العرفان
یہ دنیا، یہ زمانہ سب فنا کے گھاٹ اتر جانے والے ہیں ۔ بہت سے لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ سمندر میں ایک لہر اٹھتی ہے دوسری لہر آکر اسے مٹا کر خود چھا جاتی ہے۔پھر تیسری لہر آتی ہے وہ ان دونوں کو مٹا دیتی ہے، پھر چوتھی ، پھر پانچویں۔ اس طرح لہروں کے بننے اور مٹنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ گویا زمانہ ہر نقش کو مٹانے اور نئے نقش و نگار قائم کرنے کے لیے قدرت کی تجدّدِ امثال کی روش کا پا بند ہے۔
پیر، 5 جنوری، 2015
مقدمہ – مصباح العرفان
جمعہ، 14 نومبر، 2014
منڈیراں میں بھی‘ لاہور میں بھی – ملفوظاتِ محبوبِ ذات
حضور قدس سرہٗ العزیز کے خلیفہ کلن خان لاہور میں شربت بیچتے تھے۔ حضور قدس سرہٗ العزیز کی خدمت میں حاضری پر درخواست کی کہ حضور لاہور تشریف لائیں تو شربت آپ کی خدمت ِ عالیہ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرے۔ آپ ان کے اڈہ پر تشریف لائیں۔ حضور قدس سرہٗ العزیز نے فرمایا کہ آپ ہمیں شربت نہیں پلائیں گے۔ کلن خان نے عرض کی حضور! یہ کیسے ممکن ہے؟ بندہ تو اسے سعادت سمجھے گا۔
جمعہ، 7 نومبر، 2014
مخلوقِ خدا پر تشدد نہ کرو – ملفوظاتِ محبوبِ ذات
خواجہ صلاح الدین کا بہنوئی علاؤ الدین سکریٹریٹ میں ملازم تھا۔ ایک روز دوانِ سفر سیٹ پر کسی سے جھگڑا ہو گیا۔ علاؤ الدین‘ جو جسمانی طور پر بہت قوی تھا، نے اس شخص کو اٹھا کر گاڑی سے باہر پھینک دیا۔ ریل گاڑی اس وقت کم رفتار سے چل رہی تھی۔ علاؤالدین کو جب قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا تو حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے فرمایا کہ سوہنیا، مخلوقِ خدا سے ایسا سلوک جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اگر جنت کے طلب گار ہو تو میری مخلوق کے گناہ بخشا کرو۔ مخلوق پر تشدد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ علاؤ الدین بہت شرمسار ہوا اور اس کو یہ بھی یقین ہو گیا کہ حضورِ پاک قدس سرہٗ العزیز اپنے مریدوں کی سب حرکات و سکنات کو ہر وقت دیکھتے رہتے ہیں۔ حضورِ پاک قدس سرہٗ العزیز نے علاؤ الدین کو تنبیہ فرمائی کہ آئندہ کے لیے احتیاط کرو۔ فرمایا