جمعہ، 26 ستمبر، 2014

پھانسی سے بری کر دیا – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

نور بلوچ نامی شخص ساکن جھنگ سے ایک شخص قتل ہو گیا۔ مقدمے کی سماعت ماتحت عدالتوں سے اس کے خلاف ہوتی ہوئی عدالت ِ عالیہ میں پہنچ گئی۔ فیصلے کے لیے ایک ہفتہ بعد کی تاریخ مقرر ہوئی۔ نور کی والدہ کو مقدمے کی سماعت اور حالت سے یقین ہو چکا تھا کہ اس کا بیٹا یقیناً پھانسی چڑھ جائے گا۔ وہ پریشانی کی حالت میں خلیفہ منور شاہ صاحب کے پاس دعا کرانے کی غرض سے حاضر ہوئی۔ چونکہ معاملہ بہت گھمبیر تھا اور خلیفہ کی پہنچ اور طاقت سے باہر تھا، اس لیے انہوں نے نور کی والدہ کو دربار شریف ‘حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز کی بارگاہ میں بھیج دیا۔ اس خاتون نے بارگاہِ عالیہ میں رو رو کر التجا کی کہ میرے بیٹے کو پھانسی سے بچا لیں۔ حضور پاک قدس سرہٗ العزیز کو اس کی حالت ِ زار پر ترس آ گیا۔ آپ چند ساعت استغراق میں خاموش رہے۔ پھر اپنی انگشت ِ شہادت سے اپنی مسند پر پڑے ہوئے گاؤ تکیے پر دو مرتبہ لکھا کہ ’’اللہ نے نور کو بری کر دیا‘‘، ’’اللہ نے نور کو بری کر دیا‘‘ اور تیسری مرتبہ لکھا ’’ہم نے نور کو بری کر دیا‘‘۔ مائی دعا کے بعد واپس چلی گئی۔ جب مقدمہ فیصلہ کے لیے جج صاحب کے روبرو پیش ہوا تو جج صاحب نے مثل پر مندرجہ بالا کلمات تین سطور میں تحریر کردہ موجود پائے۔ جج صاحب وہ کلمات پڑھ کر حیرت زدہ ہو گئے اور دل میں خیال کیا کہ پہلے یہ کلمات مثل پر تو نہ تھے۔ جج صاحب نے فیصلہ لکھنے کے لیے مثل کا معائنہ کیا تھا۔ انہوں نے اس سے اخذ کیا کہ یہ کوئی مشیت ِ ایزدی ہے‘ یقیناً کوئی راز کی بات ہو گی۔ ورنہ نور کے خلاف جرم تو ثابت ہو چکا تھا۔ اس کو کسی غیبی طاقت نے بری فرما دیا ہے۔ اس لیے میں نور کو کیونکر سزا دے سکتا ہوں؟ اس نے ان حالات کے تحت نور کو بری کر دیا۔ اس کی والدہ چند دن بعد بیٹے کو ہمراہ لے کر دربار شریف شکریہ ادا کرنے حاضر ہوئی اور ساری کیفیت بیان کی۔ حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے ایک ناممکن بات کو ممکن کر دیا۔

جمعہ، 19 ستمبر، 2014

سکھ کا بیٹا زندہ کر دیا – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

ساہو والہ کے قریب ایک گاؤں سے ایک سکھ اور اس کی بیوی دربار شریف حاضر ہو کر عرض پرداز ہوئے کہ ان کا اکلوتا بیٹا فوت ہو گیا ہے۔ وہ اس کو کمرے میں بند کر کے باہر سے قفل لگا آئے ہیں اور التجا کی کہ حضور! جب تک بچہ زندہ نہ ہو گا، ہم یہاں سے نہ جائیں گے۔ وہ زار و قطار روتے اور چیخ و پکار کرتے تھے۔ حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز کو ان کی حالت ِ زار پر رحم آ گیا۔ آپ نے ہاتھ میں پانی لے کر آسمان کی طرف اچھالا۔ پانی کے قطرے فضا میں گم ہو گئے‘ واپس زمین پر نہ گرے۔ فرمایا: جاؤ! تمہارا بیٹا زندہ ہے۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو مردہ لڑکے کو زندہ پایا اور پانی کے وہی قطرے اس کے چہرے اور پیشانی پر موجود تھے۔

جمعہ، 12 ستمبر، 2014

اللہ دتہ کے لڑکے اکرم کا دوبارہ زندہ ہونا – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

دربار شریف میں مریدین کے قیام کے لیے کمروں کی تعمیر ہو رہی تھی۔ اکرم بطورِ مزدور کام کرتا تھا۔ ایک شام گارا بنانے کے لیے مٹی کھود کر جمع کر رہا تھا کہ اچانک ساتھ والی دیوار سے ایک مٹی کا بہت بڑا تودہ اس پر گرا اور وہ نیچے دب گیا۔ بڑی مشکل کے بعد مٹی سے اس کو باہر نکالا تو بے جان تھا، رنگ زرد اور سانس بند تھا۔ حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز یہ سن کر وہاں تشریف لے آئے۔ کافی دیر تک اکرم کو تکتے رہے۔ وہ مر چکا تھا لیکن آپ کی توجہ سے چند منٹ بعد اس نے آنکھیں کھول دیں تو حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے بصد مسرت فرمایا شاباش اکرم! تم زندہ ہو۔ مت گھبراؤ۔ تم بالکل ٹھیک ہو۔ فرمایا اس کو دودھ اور گھی پلاؤ۔ وہ چند ہی گھنٹوں کے بعد اٹھ کر چلنے پھرنے لگا۔ اس نے بتایا کہ وہ بہت دور سے واپس آیا ہے۔ ماشاء اللہ وہ آج کل بھی بقید ِ حیات ہے اور دربار شریف حاضری دیتا رہتا ہے۔

جمعہ، 5 ستمبر، 2014

شاہ مہندرا کی آمد – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

ایک مرتبہ سیّد منشا شاہ کی ڈیوٹی واہگہ سرحد پر نیپال کے بادشاہ مہندرا کی پاکستان آمد پر سیکورٹی پر لگا دی گئی۔ اتفاقاً برادرِ خورد سیّد اقبال احمد حسین شاہ صاحب سیّد منشا کو ملنے تشریف لے آئے۔ واپسی پر شاہ صاحب کو اپنے ہمراہ دربار شریف لے گئے۔ وہاں حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے ان کو دو دن کے لیے روک لیا۔ شاہ صاحب جب تیسرے روز ڈیوٹی پر گئے تو ان کے عملے نے تصدیق کی کہ شاہ صاحب کبھی ڈیوٹی سے غیر حاضر نہیں رہے‘ البتہ بادشاہ کی آمد کے موقع پر شاہ صاحب بڑے محتاط رہے۔ کسی سے بات تک نہ کی۔ شاہ صاحب کو یقین ہو گیا کہ سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے اپنے تصرف سے یہ کام لے کر شاہ صاحب کو حاضر رکھا۔ مرشد‘ مرید کا کس حد تک ساتھ دیتا ہے‘ اس کی وضاحت عملاً کر کے دکھا دی۔

جمعہ، 29 اگست، 2014

جاؤ چیف کر دیا – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

محکمہ اربن ٹرانسپورٹ اومنی بس لاہور میں شیخ رحمت اللہ اکاؤنٹس افسر تھے۔ اس محکمے کا انگریز چیف منیجر جب ریٹائر ہو گیا تو شیخ رحمت اللہ‘ چوہدری علم الدین کی وساطت سے دربار شریف آئے اور عرض پرداز ہوئے حضور! دعا فرما دیں میں چیف منیجر ہو جاؤں۔ فرمانِ عالی ہوا تمہاری تعلیم اور عہدے کے اعتبار سے تمہارا چیف کے عہدے پر ترقی پانا اور فائز ہونا ناممکن ہے مگر چونکہ آپ دعا کے لیے آئے ہیں تو جاؤ آپ چیف ہو جائیں گے اور کوئی افسر یا اتھارٹی آپ کو اس عہدے سے معزول نہ کر سکے گی۔ مشرقی پاکستان سے ایک اکاؤنٹنٹ جنرل تعینات ہو کر آ گیا۔ حکومت نے دوبارہ اشتہارات اخبارات میں دیئے۔ بہت سے ریٹائرڈ اکاؤنٹنٹ جنرل قسمت آزمائی کرنے آئے مگر جس کو سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے منتخب فرما دیا تھا، اس کے مقابلے میں کسی کو کامیابی نہ ہوئی۔ حالانکہ شیخ صاحب تعلیم کے لحاظ سے دوسروں سے کم تھے یعنی تعلیم بہت کم تھی لیکن چیف منیجر مقرر ہوئے اور ریٹائرمنٹ تک چیف رہے۔ ان کی تقرری نے اعلیٰ عہدوں کے افسران کو حیرت زدہ کر دیا کہ شیخ رحمت اللہ پر کسی بلند ہستی کا ہاتھ ہے جو اس کے مقابلے میں بڑے بڑے تجربہ کار اور اعلیٰ ڈگریوں والے‘ سب ناکام رہے۔ یہ سب سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز کی نظرِ کرم اور کمال کا اثر تھا جس کے مقابلے میں سب ظاہری طاقتیں ناکام ہو کر رہ گئیں۔

جمعہ، 22 اگست، 2014

ڈاکٹر حضرات کی فریاد – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

انبالہ میں قیام کے دوران حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز کی نظرِ کرم سے لوگ زیادہ سے زیادہ فیض یاب ہوتے رہے۔ ہر تکلیف کے لیے مخلوقِ خدا جوق در جوق بارگاہِ عالی میں حاضری دیتی اور فیض یاب ہو کر جاتی۔ یہ عرصہ تقریباً 3 سے 5 سال پر محیط ہے۔ جسمانی بیماریوں والے لوگ اس قدر فیض یاب ہوئے کہ علاقے کے ڈاکٹروں نے حکومت سے اپنی مالی خستہ حالی کا رونا شروع کر دیا کہ لوگ تو شاہ صاحب کی کرامت سے ہر بیماری سے شفا یاب ہو رہے ہیں اور یہ کمال کا سیّد ہے کہ کسی سے کچھ لیتا بھی نہیں۔ ہمارے پاس مریض آتا ہی کوئی نہیں۔ لہٰذا اس کا تدارک کیا جائے کیونکہ مریض حضرت محبوبِ ذات قدس سرہٗ العزیز کی فی سبیل اللہ دعا سے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

جمعہ، 15 اگست، 2014

پنجتن پاک علیہم السلام کی زیارت – ملفوظاتِ محبوبِ ذات

شاہ صاحب فارغ ہو کر باہر صحن میں بڑ کے درخت کے نیچے بیٹھ کر مراقبہ کرنے میں مصروف ہو گئے۔ چند ساعت کے بعد مشاہدہ ہوا کہ وہ پنجتن پاک علیہم السلام کے دربارِ عالیہ میں حاضر ہیں۔ دربار پاک کی ہیبت اور رعب کی تاب نہ لا سکے اور دروازے پر رُک گئے۔ اندر سے سرکار غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہا آئو بیٹا! ہم آپ کو پنجتن پاک علیہم السلام کی زیارت کراتے ہیں۔ آپ کا ہاتھ پکڑ کر لے گئے اور پنجتن پاک علیہم السلام کی بارگاہ میں پیش کر دیا۔ سیّد ظفریاب حسین نے حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز کو اپنا یہ مشاہدہ ہم سب کی موجودگی میں بیان فرمایا اور کہا کہ ان کو تمام عمر یہ سعادت نصیب نہ ہوئی جو حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے چند لمحوں میں عطا فرما دی۔ حالانکہ بقول اُن کے‘ وہ اٹھارہ سال سے امام بارگاہ کی بطورِ متولی خدمت کر رہے تھے۔ ان کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مجھ پر تین کرم نوازیاں ہوئی ہیں۔ پہلی پنجتن پاک علیہم السلام کی زیارت‘ دوئم حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کا نجیب الطرفین گیلانی سیّد ہونا اور تیسرے ان کا شاہ صاحب کو بیٹا کہہ کر ثابت کرنا کہ ظفر حسین شاہ صاحب بھی صحیح النسب سیّد ہیں۔ اس سے حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز کے کمالات کی تصدیق ہوتی ہے۔