جمعہ، 22 جولائی، 2016

{توکّل} – مصباح العرفان

توکل کا مطلب یہ ہے کہ اپنے تمام تر معاملات اللہ جل شانہ کے سپرد کر کے راضی بہ رضا رہنا۔ خوشی‘ غمی‘ نفع یا نقصان‘ ہر حال میں منشائے ایزدی کو بہ صدقِ دل و جان تسلیم کرنا۔ مجھ سے سخیٔ کاملؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے بچپن سے لے کر جوانی تک اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سرکارِ عالیؒ کی خدمتِ اقدس میں گزارا۔ میں نے انہیں کامل متوکل شخصیت پایا۔ وہ کسی لمحے بھی کسی بات پر متفکر نہ ہوتے۔ آپ کے آستانہ پر دن رات لنگر تقسیم ہوتا، دو مرتبہ چائے ملتی۔ انہوں نے کبھی سامانِ خورد و نوش جمع نہیں فرمایا۔ روزانہ تازہ سامان خریدا جاتا اور لنگر تقسیم ہوتا۔ سخیٔ کاملؒ نے مجھے بتایا کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ لنگر کے لئے خوردنی اشیاء نہ ہوتیں۔ ہم لوگ اور لانگری صاحبان تشویش میں پڑ جاتے۔ لیکن قربان جاؤں سرکارِ عالیؒ کے توکّل پر کہ وہ ہماری باتیں سن کر بھی مُشَوَّش نہ ہوتے بلکہ مسکراتے ہوئے فرماتے‘ فکر کیوں کرتے ہو؟ جس کا لنگر ہے‘ وہ خود انتظام کرے گا۔ اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا۔ مختلف لوگ خود بخود سامانِ خورد و نوش لے کر حاضرِ خدمت ہوجاتے۔ یہ تو لنگر کی بات ہے جس میں ناغہ آپؒ کو گوارہ نہ تھا کہ آپؒ مخلوق کو بھوکا نہیں دیکھ سکتے تھے لیکن اندرونِ خانہ‘ گھر میں اگر کبھی فاقہ پر نوبت پہنچ جاتی تو آپؒ یہ کہہ کر سب کو مطمئن کر دیتے کہ فاقہ ہمارے اجداد کی اوّلین سنت ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس سنت پر عمل ہو گیا ہے۔

جمعہ، 22 اپریل، 2016

{غرباء اور یادِ الٰہی} – مصباح العرفان

حضرت محبوبِ ذاتؒ نے سخیٔ کاملؒ سے فرمایا کہ قیامِ مری کے دوران میرے دل میں خیال آیا کہ اس علاقہ کے لوگ عبادتِ الٰہی سے غفلت برتتے ہیں۔ بس اپنی دنیا میں ہی مگن رہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ غربت کی وجہ سے یہ غفلت ہو۔ لہٰذا کیوں نہ میں ان کی غربت کو دور کر دوں تاکہ یہ ذکرِ الٰہی میں دل لگا سکیں۔ میں نے اپنی تنخواہ لے کر ایک صندوقچی میں رکھی اور اعلان کرا دیا کہ جس کو جتنی رقم کی ضرورت ہو مجھ سے لے لے۔ لوگ آتے‘ اپنی حاجت کے مطابق رقم لے کر چلے جاتے۔ کافی دیر یہ سلسلہ چلتا رہا؛ لوگ آتے رہے‘ پیسے لے جاتے رہے۔ صندوقچی کی رقم ختم ہونے میں نہ آئی۔ پھر میرے دل میں خیال آیا کہ لوگوں کی مالی ضروریات بخوبی پوری ہونے اور میرے نصیحت کرنے کے باوجود مخلوق اپنے حال میں مست اور بدستور یادِ الٰہی سے غفلت میں ہے۔ لہٰذا میری اس کاوش کا کوئی فائدہ نہیں۔ لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ میرے اس خیال کے بعد ایک آدمی آیا اور اس نے ایک روپیہ طلب کیا۔ میں نے بہت زور لگایا کہ زائد مانگو لیکن وہ نہ مانا۔ میں نے صندوقچی کھول کر دیکھا صرف ایک روپیہ اس میں پڑا تھا۔ میں نے وہ اسے دے کر آئندہ کے لیے یہ سلسلہ بند کر دیا۔

جمعہ، 18 مارچ، 2016

ولا تخسروا المیزان – مصباح العرفان

یہ واقعہ والدِ محترم و مرشدِ کاملؒ حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانیؒ حضور نے مجھے اس طرح سنایا کہ سرکارِ عالیؒ نے فرمایا: میں نے ایک دن قرآنِ مجید میں پڑھا ’’ولا تخسروا المیزان‘‘ کہ ترازو میں کمی نہ کرو‘ پورا تولو۔ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس کا عملی مظاہرہ کر کے لوگوں کو دکھانا چاہیے۔  چنانچہ میں نے ترازو اور باٹ خرید کر کریانہ کی دکان کھولی۔ گاہک آنا شروع ہوگئے۔ میں صحیح باٹوں کے ساتھ سیدھا ترازو رکھ کر سودا دیتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ دکان بھی خوب چل نکلی۔ کافی سیل ہوتی۔ ایک دن میں نے سوچا میرے اس عملی نمونہ پیش کرنے کے بعد بھی دیگر دکانداروں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ وہ بدستور کم وزن باٹ استعمال کر رہے ہیں اور کم وزن تول رہے ہیں۔ لہٰذا میں نے وہاں بھی دکان راہِ خدا میں لٹا دی۔

جمعہ، 8 جنوری، 2016

والدِ محترم و مرشدِ کامل‘ حضرت سید افضال احمد حسین گیلانیؒ گاہے گاہے عالی سرکارؒ کی حیاتِ پاک کی نقاب کشی کر کے مجھے آپ کے اوصافِ حسنہ سے آگاہی کا موقع فراہم کرتے رہتے۔ آپؒ بتاتے کہ سرکارِ عالیؒ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے بے سہارا، غریب‘ مسکین‘ ضرورت مند اور مصیبت زدہ لوگوں کی خدمت کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ مصیبت زدہ لوگوں کو حوصلہ دینا، ضرورت مندوں کی مالی استعانت کرنا اور بھوکوں کو کھانا کھلانا آپؒ کا روزانہ کا معمول تھا۔ سخیٔ کاملؒ نے مجھے بتایا کہ سرکارِ عالیؒ نے پورے بر صغیر کا پیدل سفر کیا اور ہزاروں انسانوں کو بلا امتیازِ دین‘ مسلک اور عقیدہ‘ اپنے ظاہری و باطنی فیوض سے نوازا۔ کوئی سائل آپؒ کے در سے خالی نہ گیا۔ اُمتِ محمدیہ ﷺ کے ہر فرد تک آپؒ نے اپنے خُلُقِ عظیم کا فیضان پہنچانے کا ہرممکن جتن کیا۔

جمعہ، 11 دسمبر، 2015

عجز و انکساری – مصباح العرفان

میرے مرشدِ کریم‘ سخیٔ کاملؒ مجھے بتایا کرتے کہ سرکارِ عالیؒ فقر کے شہنشاہ تھے اور محبوبِ ذات کے درجے پر فائز تھے۔ یہ ولایت کے اعلی ترین مراتب ہیں جن پر خال خال گنے چنے لوگ ہی پہنچتے ہیں۔ لیکن اتنے اعلی ترین مناصب رکھنے کے باوجود آپؒ پر تکبر و غرور کی بجائے انتہا درجے کی عاجزی و انکساری تھی۔ سخیٔ کاملؒ نے مجھے فرمایا کہ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی کو معمولی سے روشنی دکھائی دے یا کسی مرید کو اس کا مرشد دو چار بار مسکرا کر بلا لے تو اس کا سر آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے اور دوسرے سب لوگ اسے حقیر نظر آنے لگتے ہیں۔ لیکن قربان جائیں سرکارِ عالیؒ پر کہ جس قدر مراتب بلند ہوتے گئے‘ آپؒ اسی قدر عاجزی اختیار کرتے چلے گئے‘ جس طرح کہ کسی درخت کو جیسے جیسے پھل لگتا چلا جاتا ہے، اسی قدر وہ جھکتا چلا جاتا ہے۔ سرکا رِ عالیؒ کا عجز بیان کرتے ہوئے مجھ سے سخیٔ کاملؒ نے فرمایا کہ عالی سرکارؒ نے کبھی تکبر یا گھمنڈ نہ کیا اور نہ ہی بڑا بول بولا۔ اپنی تعریف سننا قطعاً گوارا نہ فرماتے۔ اگر کوئی آپؒ کی تعریف بیان کرتا تو فوراً منع کر دیتے اور فرماتے کہ اللہ کی تعریف کرو جو سب تعریفوں کا مالک ہے۔ اس عاجزی اور انکساری کی اعلیٰ ترین مثال یہ ہے کہ آپؒ ولایت اور فقر کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز تھے لیکن غریبوں‘ یتیموں اور مسکینوں سے بے حد پیار کرتے؛ ان کی ظاہری و باطنی‘ ہر طرح کی‘ امداد فرماتے؛ ہمیشہ زمین پر مسند لگا کر عام لوگوں میں بیٹھتے؛ اور کبھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش نہ کرتے۔ اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ آپؒ نے حمدیہ اور عارفانہ کلام لکھا، عشقِ مصطفیٰ میں ڈوب کر نبیٔ رحمتﷺ کے حضور نعتیہ نذرانہ پیش کیا، حضرت مولا علیؑ مشکل کشا اور سرکار غوثِ اعظم قدس سرہٗ العزیز کے حضور منقبتیں بھی تحریر کیں‘ لیکن اپنے لئے تخلص عاجزؔ  پسند فرمایا۔

جمعہ، 16 اکتوبر، 2015

حُسن سلوک – مصباح العرفان

میرے مرشدِ کریم‘ سخیٔ کاملؒ نے مجھے بتایا کہ سرکارِ عالیؒ کے اوصافِ حسنہ میں یہ بات بھی نہایت نمایاں طور پر موجود تھی کہ آپ اپنے اہلِ خانہ‘ عزیز و اقارب‘ مریدین اور سائلین حضرات‘ سب کے ساتھ نہایت احسن سلوک کا مظاہرہ کرتے۔ اندرونِ خانہ بھی سب کے ساتھ آپ کا برتاؤ نہایت منصفانہ تھا۔ گھر کی خواتین کی بھی بہت عزت کرتے؛ نہایت مناسب الفاظ میں انہیں مخاطب کرتے۔ میں اور بھائی شاہ کمال چھوٹے بچے تھے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ دادا حضورؒ نے ہمیشہ ہم کو شفقت و محبت کی نظر سے ہی دیکھا۔ آپؒ ہمارا ہر طرح سے خیال رکھتے۔ ہماری شرارتوں پر بھی ہمیں کبھی جھڑکتے نہیں تھے بلکہ تبسم فرما کر شفقت کرتے۔ اسی طرح آپؒ اپنے عزیز و اقارب کا بھی خیال رکھتے اور ان کو حفظِ مراتب کے مطابق پروٹوکول دیتے‘ لطف و کرم سے نوازتے۔ سخیٔ کاملؒ نے مجھے بتایا کہ بُردباری‘ عفو و درگزر‘ سرکارِ عالیؒ کے اوصافِ حسنہ کا روشن باب ہیں۔ مریدین کو دوست کہہ کر پکارتے؛ انہیں اپنی اولاد سے بڑھ کر نوازتے؛ فرماتے مریدین ہماری اولاد ہیں۔ مریدین کی کسی کوتاہی یا غلطی پر ہمیشہ درگزر فرماتے۔ آپؒ کے بعض خلفاء حضرات نے مجھے بتایا کہ بعض مریدین سے سنگین قسم کی غلطیاں ہو جاتیں‘ مثلاً وہ آپس میں لڑ پڑتے یا ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے‘ بعض سے قیمتی برتن ٹوٹ جاتے یا گم ہو جاتے‘ تو آپؒ ہمیشہ شفقت کا مظاہرہ کرتے۔ کبھی کسی پر ناراض ہوتے یا سرزنش کرتے آپؒ کو دیکھا نہ گیا۔ وہ خلق کے لئے سراپا راحت ہی راحت تھے۔

جمعہ، 9 اکتوبر، 2015

گفتگو – مصباح العرفان

آپؒ کا اندازِ گفتگو من موہنا، کریمانہ‘ دلبرانہ اور ناصحانہ تھا۔ کبھی کسی کو طعن و تشنیع یا طنز کا نشانہ بناتے۔ آپؒ کو نہ دیکھا گیا۔ آپؒ ہر ایک کو ’’سوہنیا‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے۔ جو کوئی ایک بار مل لیتا، پھر وہ ساری زندگی آپؒ کو فراموش نہ کر سکتا۔ آپؒ اپنے اَخلاق سے ہر آنے والے کو اپنا ایسا گرویدہ بنا لیتے کہ وہ آپؒ کی غلامی اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتا۔ آپؒ نے اپنے اس میٹھے اور مدنی اخلاق سے ہزاروں بے دینوں کو دینِ اسلام پر گامزن کیا، بے شمار بد عقیدہ  لوگوں کے عقائد کو درست کیا اور بے شمار راہِ گم کردہ افراد کو صراطِ مستقیم پر گامزن کیا۔

جمعہ، 21 اگست، 2015

انسانِ کامل – بے نشاں کا نشاں – مصباح العرفان

سخیٔ کامل‘ مرشدِ دوراں، عکسِ محبوبِ ذاتؒ، سجادہ نشین آستانہ عالیہ قادریہ احمد حسینیہ‘ سیّد افضال احمد حسینؒ نے سرکارِ عالیؒ کے وصال پُر ملال پر انہیں اس طرح خراجِ تحسین پیش کیا:

انسانِ کامل  ۔  بے نشاں کا نشاں

جمعہ، 14 اگست، 2015

وصالِ شریف کے بعد خراجِ تحسین

سرکارِ عالیؒ کے وصالِ شریف کے بعد پاکستان بھر کی ہر قابلِ ذکر ہستی نے آپؒ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی شخصیت کے وصال پر ملنے والے‘ متعلقین یا فیض یافتہ لوگ تو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں لیکن خاندان والے یا عزیز و اقارب کم ہی تعریف کرتے ہیں۔ وہ رفتگان کی معمولی معمولی فروگزاشتوں کو کرید کرید کر سامنے کر دیتے ہیں۔ لیکن کردار کی عظمت تو یہی ہے کہ عزیز و اقارب بھی بول اٹھیں: مرحبا مرحبا، کیا فرشتہ خصلت انسان تھا۔

جمعہ، 31 جولائی، 2015

وصال شریف – مصباح العرفان

میری عمر اس وقت گیارہ بارہ سال تھی اور میں نے سرکارِ عالیؒ کے وصال و تدفین کا پورا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح سارا خاندان غمناک تھا۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ مخلوقِ خدا آپؒ کی آخری بار زیارت کے لیے جوق در جوق اُمڈی چلی آرہی تھی۔ آپؒ کی نمازِ جنازہ کے وقت بڑے رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ لوگ آنکھوں میں آنسو لئے جنازہ کو کندھا دینے کے لیے بے تابانہ آگے بڑھ رہے تھے۔ کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اشکبار نہ ہو۔ لوگ ایک دوسرے کے گلے لگ کر یوں رو رہے تھے جیسے نہ جانے کتنی پیاری شخصیت ان سے الگ ہو رہی ہو۔ پھر جب آپؒ کے جسدِ مبارک کو لحد میں اتارا جانے لگا  تو آہوں اور سسکیوں کا شور ایک بار پھر بلند ہوا۔ یہ سارے مناظر آج تک میرے حافظے کی اسکرین پر موجود ہیں۔ جب کبھی تنہائی ان مناظر کو دہراتی ہے تو میرا دامن آنسوؤں سے بھیگ جاتا ہے اور دل انتہائی اداس ہو جاتاہے۔

آپ کا عرس مبارک منڈیر سیّداں شریف میں ہر سال 21 شعبان المعظم کوب ڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے۔

جمعہ، 17 جولائی، 2015

وصال شریف – مصباح العرفان

سرکارِ عالیؒ نے 63 سال کی عمر میں اس دارِ فانی سے پردہ فرمایا۔ اولیائے کرام نے ہمیشہ چاہا کہ ان کی عمر پیارے آقا ﷺ کی عمرِ عزیز سے بڑھنے نہ پائے۔ زندگی اور موت چونکہ اللہ کریم کے ہاتھ میں ہے‘ اس لئے ہر ولی کی خواہش تو ممکن ہے پوری نہ ہوئی ہو لیکن چیدہ چیدہ ایسے مقبولِ بارگاہ اولیائے کرام ضرور ہوئے ہیں جن کی خواہش اللہ کریم نے پوری فرما دی۔ سرکارِ عالیؒ بھی ان خوش نصیب اولیائے کرام میں سے ایک ہیں۔

جمعہ، 10 جولائی، 2015

اولاد – مصباح العرفان

اولادِ نرینہ:۔

میرے دادا جان حضور عالی سرکارؒ کے چار بیٹے ہیں۔ ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں: حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانیؒ، حضرت سیّد اقبال احمد حسین گیلانی، حضرت سیّد افتخار احمد حسین گیلانیؒ اور حضرت سیّد امجد علی شاہ گیلانی۔ اللہ کے فضل و کرم سے یہ چاروں صاحبزادے صاحبِ اولاد ہیں اور ان کے بیٹوں کی تعداد 13 ہے۔ اب تو ما شاء اللہ سرکارِ عالیؒ کا خاندان بہت پَھل پھول گیا ہے۔ ان میں سے حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانیؒ اور حضرت سیّد افتخار احمد حسین گیلانیؒ وصال پا چکے ہیں جبکہ حضرت سیّد اقبال احمد حسین گیلانی‘ جنہیں دوم صاحب کہا جاتا ہے‘ اور حضرت سیّد امجد علی شاہ گیلانی‘ جنہیں چہارم صاحب کہا جاتا ہے‘ اللہ کے فضل و کرم سے بقیدِ حیات ہیں اور میری سرپرستی فرما رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ کریم ان کا سایہ میرے سر پر ہمیشہ سلامت رکھے۔

جمعہ، 3 جولائی، 2015

شادی – مصباح العرفان

آپؒ کی گھر آمد پر سب گھر والوں نے بہت خوشی منائی۔ خاندان کے بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ اب آپ کی شادی کر دی جائے۔ لہٰذا انہوں نے آپ سے نبی پاک ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی درخواست کی۔ حضورِ پاک ﷺ کی سُنّتِ مطہرہ کا ذکر آتے ہی آپ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور سمجھ گئے کہ اس سے مراد شادی ہے۔ آپ نے مسکراتے ہوئے رضامندی ظاہر کر دی۔ آپ کی اس ہاں سے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ چنانچہ آپؒ کے لیے رفیقۂ حیات ڈھونڈنے کی تگ و دو شروع ہوئی۔ رشتے تو بہت نظر میں آئے لیکن قرعۂ فال بٹالہ شریف میں حضرت آغا بدیع الدین گیلانی شہید کے خاندان کے نام نکلا۔ یہ خاندان انڈیا میں نیکی‘ شرافت‘ اخلاق‘ طریقت و معرفت کی ایک کہکشاں کی مانند تھا۔ اس کہکشاں کی ایک عالی مرتبت بلند اقبال اور عظیم شخصیت حضرت قبلہ سیّد مظفر علی شاہ صاحب‘ جن کا سلسلہ نسب بھی اسی خاندان کی طرح حضرت سیّدنا عبدالرزاقؒ سے جاملتا ہے‘ نے اپنی دخترِ نیک اختر کا ہاتھ سرکارِ عالیؒ کے ہاتھ میں دینے کی رضامندی ظاہر کر دی اور یوں 25 ذو ا لحجہ ۱۳۳۳ھ بمطابق 4 نومبر1915ء کو آپ کی شادی سر انجام پائی۔

جمعہ، 26 جون، 2015

آپؒ کا پیراہن

آپؒ کا لباس بہت سادہ مگر نہایت صاف ستھرا ہوتا۔ آپؒ نے منڈیر شریف میں مستقل قیام کے بعد عربی لباس زیبِ تن فرمایا، جس کے اوپر اکثر سبز اور سیاہ رنگ کی قبا پہنتے۔ سیاہ رنگ کی بہت تعظیم کرتے۔ کوشش کرتے کہ سیاہ رنگ کا جوتا کبھی استعمال نہ ہو۔ مریدین کی محفل میں زمین پر مسند لگا کر رونق افروز ہوتے۔ سفید رنگ زیادہ پسند تھا۔ شیروانی اکثر زیبِ تن فرماتے۔ پیٹی باندھتے، جس میں تلوار‘ خنجر اور پستول وغیرہ آویزاں ہوتے اور گلے میں قرآنِ مجید حمائل ہوتا۔ دائیں ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھیاں ہوتیں جن کا نگینہ عموماً یمنی یاقوت کا ہوتا اور پاؤں میں سادہ مکیشن پہنتے۔ گولڈن چشمہ بھی لگاتے۔ آپؒ کے استعمال کی چیزیں کنگھی‘ سرمہ دانی‘ لباس‘ مصلّٰے‘ تسبیح‘ قرآنِ مجید‘ انگوٹھیاں‘ یہ تمام تبرکات ہمارے پاس بڑے ادب و احترام سے محفوظ ہیں۔

جمعہ، 19 جون، 2015

نوجوانی – مصباح العرفان

میں نے گھر کے بزرگوں سے سنا ہے کہ جوانی میں آپؒ حسن و جمال کی انتہائی متوازن شخصیت تھے۔ آپؒ کی سیرتِ مبارکہ اور چہرۂ انور کی پھبن کے بارے میں عالی سرکارؒ کے جانشین اور خلیفۂ اوّل‘ سیّدی‘ مرشدی‘ قبلہ و کعبہ‘ السیّد حضرت افضال احمد حسین گیلانی‘ سخیٔ کامل رقمطراز ہیں۔

جمعہ، 12 جون، 2015

سرکار غوثِ اعظمؒ سے شرف بیعت – مصباح العرفان

سرکارِ عالیؒ نے سیالکوٹ سے ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ وزیر آباد کی طرف سفر شروع کر دیا اور اگوکی کے قریب بابا ملک شاہ ولیؒ کے مزار پر ٹھہرے۔ اس وقت نمازِ تہجد کا وقت تھا۔ آپؒ جب تہجد سے فارغ ہوئے تو ایک سبز پوش بزرگ‘ جنہوں نے سبز رنگ کی بڑی سی پگڑی باندھ رکھی تھی‘ ان سے ملے اور فرمایا کہ بیٹا یہ تمہاری منزل نہیں۔

جمعہ، 5 جون، 2015

مزارات پر حاضری – مصباح العرفان

جن دنوں آپؒ گوشہ نشین تھے‘ ان دنوں آپ پر استغراق کا زبردست غلبہ تھا۔ آپؒ کو غیب سے اشارہ ہوا کہ استغراق کے اس عالم سے نکلنے کے لیے مزارات پر حاضری دینا شروع کریں۔  چنانچہ آپؒ سب سے پہلے قیام کی نیت سے سیالکوٹ میں امام علی الحقؒ کے مزار پر تشریف لے گئے۔ نمازِ عشاء کے بعد مجاوروں نے اگلی صبح کے لیے مزار کا دروازہ بند کر دیا اور آپؒ کو اندر فروکش ہونے کی اجازت نہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مزار پر رات ٹھہرنے والا صبح کبھی زندہ نہیں ملا۔  اس لئے ہم آپ کو یہ خطرہ مول لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ آپؒ وہاں سے واپس چلے آئے۔

جمعہ، 29 مئی، 2015

واٹر ورکس میں بطور سپر وائزر بھرتی – مصباح العرفان

میرے محترم و شفیق چچا جان حضرت سیّد افتخار احمد حسین گیلانی صاحبؒ سرکارِ عالیؒ کی اوائل عمری کا یہ واقعہ اس طرح بیان فرمایا کرتے کہ خدمتِ خلق کے جذبہ نے سرکارِ عالیؒ کو آرام سے گھر بیٹھنے نہ دیا۔ ان دنوں سیالکوٹ شہر میں واٹر سپلائی کا نظام قائم کیا جا رہا تھا۔ لوگوں کی سہولت کے لئے حکومت کنویں کُھدوا رہی تھی۔ آپؒ نے سوچا کہ خدمتِ خلق کا اچھا موقع ہے۔ مخلوقِ خُدا کے لیے فراہمیٔ آب پروگرام میں خدمت سر انجام دینی چاہیے۔ لہٰذا 1914ء میں آپؒ گو شہ نشینی چھوڑ کر محکمہ واٹر ورکس سیالکوٹ میں بطور سپر وائزر بھرتی ہو گئے۔ ایک کنواں تیار ہوا تو آپؒ سپر وائزر کی حیثیت سے پانی کی گہرائی کا اندازہ لگانے کے لیے کنویں میں اُترے۔ آپؒ نے ایسی ڈبکی لگائی کہ باہر ہی نہ نکلے۔ کچھ دیر تو باہر کھڑے عملے نے انتظار کیا لیکن جب آپ کافی دیر تک باہر نہ نکلے تو ان کا اضطراب شدت پکڑ گیا۔ فوری طور پر واٹر ورکس کے سپرنٹنڈنٹ کو اطلاع دی گئی۔ وہ بھاگم بھاگ کر موقع پر پہنچا اور غوطہ خور طلب کر لیے۔ اس تگ و دو میں ایک گھنٹہ صرف ہوگیا۔ غوطہ خور پانی میں اترنے کا جائزہ لینے لگے کہ پانی میں ہلچل ہوئی اور آپؒ سطحِ آب پر نمودار ہوگئے۔ جب آپؒ کنویں سے باہر تشریف لائے تو آپؒ کو دیکھ کر سب لوگ بھاگ اٹھے۔ آپؒ آوازیں دے دے کر انہیں بلارہے تھے اور وہ خوف کی وجہ سے آپ کے قریب نہ آ رہے تھے۔  وہ آپ کو مردہ قرار دے چکے تھے کیونکہ کسی شخص کا گھنٹہ بعد پانی سے زندہ نکل آنا نا ممکن تھا۔ بڑی مشکل سے سرکارِ عالیؒ نے یقین دلایا کہ میں کوئی بھوت پریت یا بد روح نہیں ہوں۔ تم میری طرف حیرت سے کیوں دیکھ رہے ہو۔ ان لوگوں نے آپؒ کو پورا واقعہ سنایا۔ آپؒ سن کر خاموش ہو رہے۔ پورے سیالکوٹ میں اس واقعہ کی دھوم مچ گئی۔ اس طرح آپ ایک بار پھر مخلوقِ خدا میں ظاہر ہو گئے تھے‘ اس لئے استعفیٰ دے کر واپس منڈیر شریف گوشہ نشین ہو گئے۔ محترم چچا جان یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ بعد میں کسی نے سرکارِ عالیؒ سے پوچھا حضور آپ کنویں میں اتر کر کہاں غائب ہو گئے تھے؟ آپؒ نے فرمایا، اپنے ایک دوست سے ملنے گیا تھا۔