ہندو مذہب کے کرشن اللہ کی بہت عبادت کرتے۔ ایک روز چند ساعت کے لیے کُن کی آواز (ھُو) ان کے کان میں پڑی مگر جلد ہی آواز بند ہو گئی۔ اس آواز کو دوبارہ سننے کے لیے اس نے بہت کوشش کی مگر آواز دوبارہ نہ آئی۔ اس لیے اس کی روح حیرت میں چلی گئی۔ آواز کو دوبارہ سننے کے لیے کرشن مہا راج نے تمام عمر جنگلوں میں گذاری اور بنسری بجائی کیونکہ بنسری کی آواز میں کن کی آواز کی تھوڑی سی مشابہت پائی جاتی ہے۔ تمام عمر بنسری بجاتے گذاری مگر آواز دوبارہ سننے کی نوبت نہ آئی۔ اسی جستجو میں کرشن تمام عمر غیر شادی شدہ رہے۔ ہندو قوم‘ عورتوں کے اجتماع میں‘ کرشن کا جو تصوّر پیش کرتے ہیں وہ سراسر لغو اور غلط ہے۔ اس نے تو ہُو کی آواز سننے کے لیے تمام عمر جنگلوں میں بنسری بجاتے گذار دی۔
جمعہ، 25 اپریل، 2014
کرشن‘ صدائے ھُو کا متلاشی – ملفوظاتِ محبوبِ ذات
جمعہ، 18 اپریل، 2014
حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ – ملفوظاتِ محبوبِ ذات
اسی عورت کا خاوند اپنی بیوی کے اغوا ہونے کا علم ہونے پر شہر کی طرف روانہ ہو گیا۔ پیدل چلتے چلتے ایک سال کے بعد اس شہر میں پہنچا۔ اس شہر میں پہنچ کر اس نے شہر کا گشت شروع کر دیا اور سارنگی پر اپنی مادری زبان میں گانے گاتا تاکہ اس کی بیوی اس کی آواز پہچان سکے۔ گاتے ہوئے ایک مکان کے آگے سے گذرا تو اس کی آواز اس کی بیوی کے کان میں پڑی تو وہ بھاگ کر دروازے پر آئی۔ دروازہ کھولا تو سامنے اپنے شوہر کو کھڑا پایا اور کہا کہ آفرین تمہاری اس کوشش پر مگر اب اپنے آپ پر قابو رکھنا۔ اگر بے تاب ہو کر کوئی حرکت کرو گے تو مارے جائو گے کیونکہ یہاں تمہارا کوئی حامی نہیں ہے۔ عورت نے تجویز دی کہ مجھے حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تم اس علاقے کے ولی اللہ‘ جو شاہ ولایت کے نام سے مشہور ہیں‘ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر مدد کے لیے عرض کرو۔ میرا اس شخص سے معاہدہ ہے کہ اگر میرا خاوند اس دوران مجھے حاصل کرنے میں ناکام رہا تو میں تمہارے ساتھ نکاح کر لوں گی۔ معاہدہ ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی ہے۔ مغرب کے بعد وہ مجھ سے نکاح کرنے کا حق دار ہو گا۔
جمعہ، 11 اپریل، 2014
حکایات – ملفوظاتِ محبوبِ ذات
حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز کے ارشاد و وعظ کا ہر لفظ نصیحت آمیز‘ عبرتناک اور طالبین کے لیے راہنمائی کا باعث ہوتا۔ حضور پاک قدس سرہٗ العزیز نے بادشاہ نادر شاہ اور محمود غزنوی کی تین حکایات بیان فرمائیں‘ جن میں غلام کا اپنے مالک کے حکم پر عمل پیرا ہونا اور ولی کی طاقت کا اظہار فرمانا ہے۔ آپ سرکار نے ایسی حکایات بیان کر کے توحید کے اہم نکات کی نشان دہی فرماتے ہوئے مندرجہ ذیل مثالیں بیان فرمائیں۔
جمعہ، 4 اپریل، 2014
غلبۂ عشقِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم – ملفوظاتِ محبوبِ ذات
حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ جب تک مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہتے‘ ننگے پاؤں پھرتے۔ اس تعظیم کے تحت پاؤں میں جوتا نہ پہنتے کہ معلوم نہیں اس سر زمین پر آقائے نامدار رحمۃ للعالمین ﷺ کے قدم مبارک کہاں کہاں لگے ہوں گے۔ اور میں اپنے جوتوں سے اس جگہ کی بے ادبی کا مرتکب نہ ہو جاؤں۔
جمعہ، 28 مارچ، 2014
عشقِ الٰہی – ملفوظاتِ محبوبِ ذات
عشقِ الٰہی کا ایک اور واقعہ سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے بیان فرمایا۔
اللہ تعالیٰ کا ایک عاشق پہاڑ کی غار میں محو ِ ذکر تھا اور عرصے سے روزہ بھی رکھا ہوا تھا۔ خیال آیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے پانی لے کر روزہ افطار کروں گا۔ حسنِ اتفاق سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کی ملاقات کے لیے تشریف لے آئے۔ اس عاشق نے اپنی تمنا کا اظہار کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پہاڑ پر پانی لانے کے لیے گئے تو اُن کے پیچھے ایک شیر آیا اور اس نے بزرگ کو پھاڑ ڈالا۔ آپ جب واپس آئے تو آپ نے یہ دل سوز منظر دیکھا۔ آپ کو حیرت ہوئی۔ کوہِ طور پر جا کر بارگاہِ الٰہی سے اِس بزرگ کے بارے میں سبب جاننے کی التجا کی۔ ارشادِ باری ہوا کہ وہ میرا عاشق تھا، اُس کو غیر سے پانی کی خواہش کیوں پیدا ہوئی؟ اس کی عبادت کے پیشِ نظر میں نے اس کو انجام تک پہنچایا تاکہ پانی پینے سے اس کی عبادت ضائع نہ ہو جائے۔
جمعہ، 21 مارچ، 2014
نفاستِ ذات – ملفوظاتِ محبوبِ ذات
حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ اس طرح بیان فرمایا کہ ایک شب حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ عشاء کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہو رہے تھے۔ ابھی ایک قدم اندر رکھا تھا کہ ہاتف ِ غیب کی آواز آئی کہ بایزید! ہمارے گھر میں کس وضو کے ساتھ آ رہے ہو؟ آپ نے خیال کیا غالباً وضو میں کوئی نقص رہ گیا ہے۔ واپسی کا ارادہ کیا تو آواز آئی میرے گھر سے واپس جا رہے ہو؟ جس کا آپ پر اتنا اثر ہوا کہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ رات بھر لوگ آپ کو لتاڑتے ہوئے اوپر سے گذرتے رہے۔کسی کو خبر نہ ہو سکی کہ نیچے گرا ہوا انسانی وجود ہے اور وہ بھی حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا، جو اس وقت بہت بڑے بزرگ سمجھے جاتے تھے۔ رات بھر لوگوں کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔ صبح ارشاد ہوا: جاؤ! اس مرتبہ معاف کیا۔ آئندہ احتیاط کرنا۔ یہ ہے نفاست۔
جمعہ، 14 مارچ، 2014
تصوّف کے دو اہم واقعات – ملفوظاتِ محبوبِ ذات
حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ العزیز نے تصوّف کے دو اہم واقعات بیان فرمائے:
(1) حضرت موسیٰ ؈ کا گزر ایک جنگل سے ہوا۔ آپ ؈ کوہِ طور کی طرف بڑھ رہے تھے۔ راستے میں ایک چرواہا ملا جو اللہ تعالیٰ کی اس طرح تعریف کر رہا تھا کہ میرے اللہ میاں! اگر تو مجھے مل جائے تو میں تجھے بکریوں کے دودھ سے نہلاؤں‘ تیرے بال دودھ سے دھوؤں‘ پھر سرمہ ڈالوں اور کنگھی کروں۔ حضرت موسیٰ ؈ نے سنا تو قریب جا کر اس کو ایسا کرنے سے منع فرمایا اور بتایا کہ اللہ کا کوئی وجود نہیں‘ تو ایسا کہہ کر گناہ کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس پر وہ چرواہا نادم ہوا اور گناہ کی معافی کے لیے حضرت موسیٰ ؈ سے کوہِ طور پر جا کر اللہ سے معافی دلانے کے لیے دعا کرنے کی استدعا کی۔ جب حضرت موسیٰ ؈ کوہِ طور پر پہنچے تو ارشادِ باری ہوا کہ جسے شاعر نے یوں کہا